تاجر برادری کے نیب کیسز کیلئے نئی اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ منسوخ

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

فردوس عاشق اعوان، میڈیا کو کابینہ اجلاس کے حوالے سے آگاہ کررہی تھیں—فوٹو:پی آئی ڈی
فردوس عاشق اعوان، میڈیا کو کابینہ اجلاس کے حوالے سے آگاہ کررہی تھیں—فوٹو:پی آئی ڈی

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ریئل اسٹیٹ کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام اور اشیائے ضروریات کی بلند قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے صوبوں کے ساتھ اجلاس اور تاجروں کے نیب کیسز کے لیے اتھارٹی نہ قائم کرنے جیسے اہم فیصلے کیے گئے۔

خیال رہے کہ کابینہ کا اجلاس عموماً منگل کے روز ہوتا ہے تاہم وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے پیشِ نظر اجلاس ایک روز قبل طلب کیا گیا۔

نیب اور تاجر برادری

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے خلاف دائر کیے گئے کیسز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ کاروباری شخصیات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا مشورہ پیش کیا تھا۔

تاہم اب اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ یہ نیب پر منحصر ہے کہ وہ تاجروں کے مقدمات سے نمٹے اور ہراساں کرنے کے تاثر کو غلط ثابت کرے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ روز مرہ ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے۔

میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے دورہ چین اور ایران کے حوالے سے کابینہ کو اعتماد میں لیا۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم نے ضروریات کی اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے بعد وزارت شماریات کو ہدایات دی ہیں کہ قیمتوں میں استحکام رہنا چاہیے، طلب اور رسد میں پیدا ہونے والے خلا کی وجہ ذخیرہ اندوز ہیں، جو جان بوجھ کر من پسند چیزوں میں کمی پیدا کرکے عوام کے لیے مشکلات کھڑی کرتے ہیں اس پر کوئی رعایت نہ برتی جائے’۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے احساس سیلانی لنگر اسکیم کا افتتاح کردیا

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کی قیمتیں تبدیل کرنے کے بجائے قیمتوں کو استحکام دیا جائے اور استحکام کو برقرار رکھنا حکومت وقت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے اور وزیراعظم نے اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو جمعے کو طلب کیا ہے جہاں قیمتوں کے میکنزم پر بات ہوگی کہ قیمتوں کے استحکام کے لیے صوبائی حکومتوں کے ادارے فعال کردار ادا کریں’۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 2 اکتوبر کے فیصلوں اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 4 اکتوبر کے فیصلوں کی توثیق کی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کابینہ کو بتایا گیا کہ وزارت صحت کی جانب سے 89 ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے حوالے سے ایک سمری لائی جا رہی ہے اور وزیر اعظم نے وزارت صحت کو ہدایت کی کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں اور مارکیٹ میں ادویات کی کمی پر نظر رکھیں’۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ای کامرس پالیسی کی منظوری

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ ‘کابینہ نے ڈاکٹر عصمت آرا کو منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل فرٹیلائزر کمپنی اور ایس مسعود کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) پالیسی بورڈ کا رکن تعینات کرنے کی منظوری دی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج کابینہ کے اجلاس میں، جو سب سے اہم فیصلہ ہوا وہ رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے تھا، رئیل اسٹیٹ ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرڈیننس 2019 کے تحت ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی گئی’۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اسلام آباد میں عمارتوں، زمینوں اور سڑکوں سمیت متعدد معاملات کے حوالے سے ماسٹر پلان کی منظوری دی گئی ہے جس کو ماہرین تیار کریں گے اور انہیں اگلے دو برس میں مکمل منصوبہ پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

آزادی مارچ

آزادی مارچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ہاتھوں میں استعمال ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا کو پہلے ہی عوامی حمایت نہیں ملی جس کی وجہ سے وہ ایک طویل عرصے بعد رکنِ قومی اسمبلی بھی نہ بن سکے اور جن لوگوں نے مولانا کو مسترد کردیا وہ حکومت کے خلاف تحریک میں شامل نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ نے بھارت سے تجارت معطل کرنے کی منظوری دے دی

ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کی تجدید کی اصولی منظوری دی گئی ہے اور سی ڈی اے کو مکمل طور پر خودمختار ادارے کے طور پر متعارف کروایا جارہا ہے جو اسٹیٹس کو سے نکل کر دور حاضر کا بہترین ادارہ بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘لنگر خانوں کے قیام کے حوالے سے پالیسی کی کابینہ نے منظوری دی ہے جس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا’۔