بھارت میں قبر سے زندہ نوزائیدہ بچی برآمد

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

نومولود بچی کی عمر تقریباً پانچ روز ہے، پولیس افسر — فوٹو: بشکریہ بی بی سی
نومولود بچی کی عمر تقریباً پانچ روز ہے، پولیس افسر — فوٹو: بشکریہ بی بی سی

بھارت میں ایک قبر سے نوزائیدہ بچی کو زندہ حالت میں برآمد کر لیا گیا جسے پولیس کی جانب سے 'لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے' کے واقعے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک جوڑا، جو ہسپتال میں پیدائش کے بعد انتقال کرنے والی اپنی نومولود بیٹی کے لیے قبر کھود رہا تھا کہ کئی فٹ گہرائی میں ان کا بیلچہ ایک مٹی کے برتن سے ٹکرایا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بیلچہ جیسے ہی برتن سے لگا اس میں سے بچی کے رونے کی آواز آئی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ برتن سے بچی کی آواز آنے کے بعد فوری بعد جوڑے نے قبرستان کے گارڈ کو بلایا، جس نے کہا کہ اس نے اس نوزائیدہ بچی کے والدین کو دیکھا تھا جس کے بعد یہ واقعہ بچی کو زندہ درگور کرنے کا لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچی کی عمر تقریباً پانچ روز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچی کو فوری ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کی حالت میں بہتری آرہی ہے، جبکہ پولیس والدین کو تلاش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں بچیوں کو اکثر بوجھ سمجھا جاتا ہے جن کے خاندان کو ان کی شادی کے وقت جہیز دینا پڑتا ہے، جبکہ بچے قدرت کا تحفہ سمجھے جاتے ہیں جو گھر میں کما کر لاتے ہیں، جنہیں وراثت میں حصہ دیا جاتا ہے جو خاندان کا نام آگے بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

جولائی میں جاری ہونے والے سرکاری سروے کے مطابق ان ہی وجوہات کی وجہ سے کئی والدین نوزائیدہ بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے ہیں، جبکہ نومولود بچیوں کو بچانے کے لیے حکومت کی کوششوں اور غیر قانونی اسقاط حمل پابندی کے باوجود جاری ہے۔