جج ویڈیو لیک کیس: ملزم کا جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے کا اعتراف

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2019

ای میل

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیصل شاہین کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا —فائل فوٹو: اسکرین گریب
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیصل شاہین کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا —فائل فوٹو: اسکرین گریب

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے احتساب عدالت میں بتایا ہے کہ ویڈیو لیک کیس کے ملزم فیصل شاہین نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے کا اعتراف کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں سابق جج نے اقرار کیا تھا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دباؤ میں آکر سزا سنائی تھی۔

ایف آئی اے نے ملزم فیصل شاہین اور ویڈیو لیک اسکینڈل کے مرکزی ملزم ناصر بٹ کے بھتیجے حمزہ بٹ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

سماعت میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیصل شاہین کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ حمزہ بٹ کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی تو سیع کردی۔

یہ بھی پڑھیں: جج ویڈیو اسکینڈل: ناصر بٹ کے رشتہ داروں کا 'ہراساں' کرنے کے خلاف عدالت سے رجوع

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی نے ویڈیو لیک کیس کی تفتیش سائبر کرائم سرکل سے ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ منتقل کردی تھی جس کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 5 اکتوبر کو جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے والے ناصر بٹ کے بھتیجے حمزہ بٹ اور قریبی عزیز شعیب کوگرفتار کرکے مقامی عدالت میں پیش کرکے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

قبل ازیں 7 ستمبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے ویڈیو لیک کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے دوران تفتیش کوئی ثبوت نہ ملنے کی رپورٹ کے بعد 3 ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور مہر غلام جیلانی کو رہا کردیا تھا۔

عدالت کی جانب سے تینوں افراد کی رہائی پر سابق جج ارشد ملک نے 11 ستمبر کو ایف آئی اے کے چاروں عہدیداروں (ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم اللہ تارڑ اور فاروق لطیف اور سب انسپکٹر فضل محبوب) کے خلاف ناقص تفتیش کی شکایت دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک ویڈیو کیس انسداد دہشت گردی عدالت منتقل

بعد ازاں ایف آئی اے حکام نے سائبر کرائم عدالت کی 23 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں بتایا تھا کہ ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل نے نہ صرف انکوائری سائبر کرائم ونگ سے انسداد دہشت گردی ونگ کے سپرد کردی بلکہ چاروں عہدیداروں کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی کارروائی کا بھی آغاز کردیا گیا۔

جج ویڈیو لیک کیس

یاد رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے جو ویڈیو چلائی تھی اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔

مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے، لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: جج ویڈیو اسکینڈل: ناصر بٹ کے بھتیجے، قریبی عزیز کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

انہوں نے ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک، ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، ویڈیو میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس ویڈیو سے میری اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس تمام معاملے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 مرتبہ جج ارشد ملک سے ملاقات کی تھی جبکہ اس تمام معاملے سے متعلق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: جج ویڈیو اسکینڈل میں شریک ملزم لاپتہ، پولیس نے مقدمہ درج کرلیا

بعد ازاں 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا اور خط لکھا تھا، جس پر وزارت قانون نے احتساب عدالت نمبر 2 کے جج کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا اور لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

اسی روز جج ارشد ملک کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک خط اور بیان حلفی جمع کروایا گیا تھا، جس میں ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

بیان حلفی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے انہیں 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی پیشکش کی تھی۔

جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو اسکینڈل: سابق جج ارشد ملک کو سیشن کورٹ میں او ایس ڈی بنا دیا گیا

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ناصر بٹ نے 5 اکتوبر کو احتساب عدالت کے سابق جج محمد ارشد ملک کے خلاف شواہد جمع کروائے تھے۔

ناصر بٹ کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات میں ان کے اور جج ارشد ملک کے درمیان گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ کی ٹرانسکرپٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں، بات چیت کی ویڈیو کم آڈیو ریکارڈنگ کی ٹرانسکرپٹ، درخواست گزار کا بیان حلفی، آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز کی فرانزک رپورٹس اور دونوں افراد کے درمیان بات چیت کی اصل آڈیو اور ویڈیو-کم-آڈیو ریکارڈنگز کی کاپیوں پر مشتمل یو ایس بی شامل ہیں۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مذکورہ دستاویزات کو العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل کے ریکارڈ میں شامل کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ ویڈیو میں موجود جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم کو دباؤ کے تحت سزا سنانے کا اعتراف کیا تھا۔