بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کرنے کے واقعات پر احتجاج

اپ ڈیٹ دسمبر 30 2019

ای میل

یونیورسٹی کے طالب علموں نے عہدیداران پر دباؤ ڈالنے اور ملزمان کو سزا دینے کے لیے کیمپس کے اندر کی جانب مارچ کیا۔ — فوٹو: ڈان نیوز
یونیورسٹی کے طالب علموں نے عہدیداران پر دباؤ ڈالنے اور ملزمان کو سزا دینے کے لیے کیمپس کے اندر کی جانب مارچ کیا۔ — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے بلوچستان یونیورسٹی میں ہراساں کرنے کے اسکینڈل کے انکشاف کے بعد متعدد طلبا تنظیموں کی جانب سے یونیورسٹی کے باہر احتجاج کیا گیا۔

طالب علموں نے عہدیداران پر دباؤ ڈالنے اور طلبا و طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے کیمپس کے اندر کی جانب مارچ کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایت، چیف جسٹس کا از خود نوٹس

کیس کی کئی ہفتوں سے تفتیش کرنے والے ادارے ایف آئی اے نے طالبات کو ہراساں کرنے کی 12ویڈیوز کا انکشاف کیا تھا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان نے طالبات کو ہراساں کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی کے باوجود مزید 6 اضافی کیمرے نصب کردیے تھے۔

بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما کا کہنا تھا کہ 'یہ قابل قبول نہیں، ہم اپنی عزت کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے'۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہراساں کرنے کے اسکینڈل سے صوبے اور بالخصوص بلوچستان یونیورسٹی میں تعلیم کے ماحول پر اثر پڑا ہے۔

مظاہرین کے ہاتھ میں موجود پلے کارڈ پر ملزمان کو سزا دینے، انصاف اور طالبان کو درپیش بلیک میلنگ کے واقعات روکنے کے مطالبات کیے گئے تھے۔

پختونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما کبیر افغان کا کہنا تھا کہ 'یونیورسٹی میں اس طرح کے واقعات کافی عرصے سے چل رہے تھے'۔

یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان: کم عمر لڑکے کا خاتون ٹیچر پر 'ہراساں' کرنے کا الزام، مقدمہ درج

طالب علموں نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور معاملے پر جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر و دیگر اعلیٰ عہدیداران کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا۔

کوئٹہ پریس کلب میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر داؤد شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کاہ کہ 'کوئٹہ کی تینوں بڑی یونیورسٹیوں میں ہراساں کے کیسز کی تحقیقات کی جانی چاہیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری اقدامات کرے اور ملزمان کو سزا دے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جاسکے۔

اسکینڈل پر رد عمل دیتے ہوئے بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ 'ہم ایف آئی اے سے اس اسکینڈل میں ملوث افراد کو سامنے لانے کے لیے تعاون کریں گے'۔

انہوں نے ایف آئی کی جانب سے یونیورسٹی سے گرفتاریوں کی اطلاعات کی تردید کی۔