سعودیہ-ایران ثالثی: وزیراعظم کا بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل پر زور

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

عمران خان کی شاہ سلمان سے ریاض میں ملاقات ہوئی — فوٹو: نوید صدیقی
عمران خان کی شاہ سلمان سے ریاض میں ملاقات ہوئی — فوٹو: نوید صدیقی
ایک ماہ کے اندر دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی — فوٹو: نوید صدیقی
ایک ماہ کے اندر دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی — فوٹو: نوید صدیقی
وزیر خارجہ اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی عمران خان کے ہمراہ ہیں — فوٹو: نوید صدیقی
وزیر خارجہ اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی عمران خان کے ہمراہ ہیں — فوٹو: نوید صدیقی

اسلام آباد: سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور ایران کے ساتھ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں پر زور دیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے شاہ سلمان کو علاقائی تنازعات سفارت کاری کے ذریعے پُرامن طور پر حل کرنے کی تجویز دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کے بیان میں اس بات کا کوئی تذکرہ موجود نہیں تھا کہ وزیراعظم کی تجویز پر سعودی فرمانروا نے کیا ردِ عمل دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی 4 مرتبہ ثالثی کی کوشش کی ہے خاص کر 2016 کے آخر میں جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سعودی شیعہ عالم باقر النمر کی پھانسی کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ختم کرنے کے لیے تہران اور ریاض کا دورہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران، سعودیہ تنازع سے خطے میں غیرمعمولی غربت بڑھے گی، عمران خان

خیال رہے کہ سعودی عرب اور ایران حریف ممالک تصور کیے جاتے ہیں اور 2015 میں یمن جنگ کے بعدسے ان کے تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

بعد ازاں حوثی باغیوں کی جانب سے آرامکو آئل تنصیبات پر حملے کے بعد سے اس کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا۔

دورہ سعودی عرب کے حوالے سے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی، دوطرفہ تعلقات، علاقائی امور اور خطے کی امن وامان کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ ایک ماہ کے اندر دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور حرمین کے تقدس اور حرمت کے لیے پاکستانی قوم یک آواز ہے۔

انہوں نے محمد بن سلمان کو بھارت کے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات، کشمیری عوام پر ظلم و ستم اور اس سے علاقے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات سے بھی آگاہ کیا۔

وزیر اعظم نے وسیع تر خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور امن و امان کی کوششوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان مسلم امہ کے سال کے بہترین شخص قرار

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اے پی پی' کے مطابق ملاقات میں خادمین حرمین شریفین سے ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے دوطرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بات چیت کی۔

ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے علاقائی امن و استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات کے سیاسی اور سفارت کاری کے ذریعے پرامن حل پر زور دیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار بخاری، سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز بھی ان ملاقاتوں میں موجود تھے۔

وزیر اعظم کا دورۂ سعودی عرب

خطے میں امن و سلامتی کے لیے ایران کے دورے کے بعد سعودی عرب کے دورے پر ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ کے رائل ٹرمینل پر گورنر ریاض فيصل بن بندر بن عبد العزيز السعود اور وزیر مملکت اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔

وزیر خارجہ اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی عمران خان کے ہمراہ ہیں — فوٹو: نوید صدیقی
وزیر خارجہ اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی عمران خان کے ہمراہ ہیں — فوٹو: نوید صدیقی

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز، سعودی حکام اور سفارت خانے کے دیگر افسران بھی وزیر اعظم کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار بخاری بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم دوسرے رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ مشاورت سے سعودی قیادت کو آگاہ کریں گے۔

عمران خان اور سعودی قیادت کے درمیان بات چیت میں دوطرفہ تعلقات اور دوسرے علاقائی امور بھی زیر بحث آئیں گے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل ایران کا بھی ایک روزہ دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ہم برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع نہیں چاہتے، تصادم کی صورت میں خطے میں غربت اور تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور اس کے پیچھے مفاد پرست خوب فائدہ اٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالث بن گئے

انہوں نے ایرانی صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ ’ہم خطے میں تصادم نہیں چاہتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے گزشتہ 15 برس میں 70 ہزار انسانی جانوں کی قربانی دی، افغانستان تاحال مسائل سے دوچار ہے جبکہ شام میں بدترین صورتحال ہے، ہم دنیا کے اس خطے میں مزید تصادم نہیں چاہتے‘۔

وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ ’سعودی عرب ہمارا قربی دوست ہے، ریاض نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی، ہم موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھتے ہیں، لیکن ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ریاض اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔