پیراگون سوسائٹی ریفرنس: خواجہ برادران کی بریت کی درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

احتساب عدالت نے 14 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بدھ کے روز سنانے کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
احتساب عدالت نے 14 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بدھ کے روز سنانے کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور: احتساب عدالت نے سابق وزیر ریلوےخواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سابق صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی پیراگون سٹی اسکینڈل میں فرد جرم ختم کر کے بریت کی درخواست مسترد کردی۔

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے گزشتہ سماعت میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور دونوں ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع بھی کردی۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت نے 4 ستمبر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی و رکن پنجاب اسمبلی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پیراگون سوسائٹی ریفرنس: خواجہ برادران کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

جس پر خواجہ برادران کی جانب سے ان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ درخواست گزاروں کی فرد جرم ختم کر کے انہیں الزام سے بری کردیا جائے۔

اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ نجی کاروبار کا تنازع نیب آرڈیننس 1999 کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جبکہ درخواست گزاروں کے خلاف بحیثیت سرکاری افسران قومی خزانے کے غلط استعمال کے کوئی شواہد بھی موجود نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت ان معاملات کی نگرانی کرنا سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) کا کام ہے۔

تاہم نیب پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اعوان نے بریت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے کہ ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے کے بعد اس قسم کی درخواستوں کی سماعت نہیں کرسکتی۔

جس پر احتساب عدالت نے 14 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بدھ کے روز سنانے کا اعلان کیا تھا۔

پیراگون سوسائٹی ریفرنس کا پس منظر

نیب نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے میں خرد برد کی تحقیقات کا آغاز نومبر 2018 میں کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مذکورہ سوسائٹی خواجہ سعد رفیق کی ہے جبکہ انہوں نے عدالت عظمیٰ میں سوسائٹی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکا لینے کے الزام میں 24 فروری کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔

نیب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ برادران کے خلاف ریفرنس دائر، کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام

نیب لاہور نے رواں سال مئی میں خواجہ برادران کے خلاف پیراگون سوسائٹی مبینہ کرپشن کیس میں تحقیقات کے بعد ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد 31 مئی کو لاہور کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا گیا تھا۔

قبل ازیں نیب نے 11 دسمبر 2018 کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں خواجہ برادران، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائی کورٹ سے حراست میں لے لیا تھا، خواجہ برداران نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں قبل ازگرفتاری ضمانت میں متعدد مرتبہ توسیع بھی حاصل کی تھی۔

نیب نےگرفتاری کے دوسرے ہی روز خواجہ برادران کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو ابتدائی طور پر 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا، بعد ازاں اس میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی اور 2 فروری 2019 کو انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔