رمضان شوگر ملز کیس: حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

ایس پی نے کہا کہ میڈیا سے بات نہ کریں —فائل فوٹو: فیس بک
ایس پی نے کہا کہ میڈیا سے بات نہ کریں —فائل فوٹو: فیس بک

لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز ریفرنس میں جوڈیشل ریمانڈ میں 30 اکتوبر تک توسیع کر دی۔

حمزہ شہباز کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا لیکن مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اپنے خلاف ریفرنس میں بیماری کی وجہ سے پیش نہ ہوسکے۔

مزیدپڑھیں: رمضان شوگر ملز ریفرنس: شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

احتساب عدالت نے شہباز شریف کی حاضری سے معافی کی درخواست منظور کرلی۔

پیشی سے قبل کمرہ عدالت کی طرف جاتے ہوئے حمزہ شہباز اور سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا۔

اس نئے ریفرنس کے مطابق شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے رمضان شوگر مل کے لیے غیر قانونی طور پر نالہ تعمیر کروایا۔

ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے اس نالے کی تعمیر سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ وہ ان ملزمان کو سزا دے۔

اس نئے ریفرنس سے قبل بھی شہباز شریف کے خلاف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر مل کیسز دائر کیے گئے تھے، جس میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

قبل ازیں حمزہ شہباز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنے لگے تو ایس پی نے عقب سے آکر انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر حمزہ شہباز سیخ پا ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف نیا ریفرنس دائر کردیا

ایس پی نے کہا کہ میڈیا سے بات نہ کریں۔

جس پر حمزہ شہباز نے کہا کہ ’آپ پیچھے ہو جائیں مجھے نہ بتائیں میں نے کیا کرنا ہے‘۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’غریب کے پاس روٹی نہیں بیمار کے پاس دوائی نہیں ہے‘۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ ’اللہ تعالی اس ملک پر رحم کریں یہ تبدیلی بہت مہنگی پڑ رہی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم 25سال سے یہ باتیں سن رہے ہیں ہم سب ایک ہیں‘۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت کے باہر حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر پولیس اہلکار میڈیا نمائندوں پر تشدد کے دو واقعات بھی پیش آئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پنجاب پولیس کے اہلکار نے فوٹوجرنلسٹ کو تھپڑ رسید کیا۔