امریکی پابندیاں ترکی کی کمزور معیشت کو نقصان نہیں پہنچائیں گی

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ واقع میں سخت اقدامات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ واقع میں سخت اقدامات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

فرینکفرٹ: شام میں ترکی کے حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے ترکی کے خلاف اعلان کی گئیں پابندیاں اس معیشت کو کوئی سنگین نقصان پہنچانے کے لیے کم ہے جو معاشی گراوٹ اور کرنسی کی تباہی سے خود کو نکالنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہے۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید سخت اقدامات لے سکتے تھے جس سے غیرملکی سرمایہ کاری کو نقصان ہوتا لیکن ترکی کئی طریقوں سے جوابی وار کرسکتا تھا۔

تاہم یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واقعی میں سخت اقدامات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

مزید پڑھیں: شام میں کرد ٹھکانوں پر حملے، امریکا نے ترکی پر پابندیاں لگادیں

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ترکی کی معیشت کو تباہ اور برباد کردیں گے اور انہوں نے شام میں حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی صدر کے بیان پر ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں جماعتوں کی جانب سے امریکی اتحادی کرد جنگجو کے خلاف ترکی کو گرین سگنل دینے کے فیصلے پر تنقید کی گئی تھی۔

امریکا نے 2 روز قبل ترکی پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا تاہم یہ پابندیاں امریکی صدر کے بیان سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں اور تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں نے انتہائی کم قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکا نے تین ترک وزرا، ان کے محکمہ دفاع اور توانائی پر پابندی عائد کی تھی، امریکی مالیاتی نظام میں موجود اثاثے منجمد اور امریکی شہریوں اور تاجروں کو ان سے معاہدوں سے روک دیا تھا۔

علاوہ ازیں امریکی صدر نے ترک اسٹیل کی برآمدات پر 25 سے 50 فیصد ٹیرف عائد کردیا تھا اور ترکی کے ساتھ تجارتی معاہدے پر مذاکراے منسوخ کرنے کا حکم بھی دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اسٹیل کے ٹیرف میں اضافے اور ترکی کے ساتھ 100 ارب ڈالر پر مشتمل تجارتی معاہدے پر مذاکرات کو بھی منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

عالمی تجارت میں امریکی مالیاتی اداروں اور ڈالر کے اہم کردار کو دیکھا جائے تو یہ پابندیاں انتہائی کم ہیں امریکا، ترکی کے بینکوں اور ان عالمی مالیاتی نظام سے تعلقات کو نشانہ بناسکتا تھا۔

امریکا کی جانب سے سخت اقدامات نافذ نہ کرنے کے بعد سرمایہ کاروں میں سکون کی لہر دوڑنے سے ترکی کی کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا۔

بلیو بے ایسیٹ منیجمنٹ پر ابھرتے ہوئے مارکیٹ اسٹریٹجسٹ ٹیموتھی ایش نے امریکی پابندیوں کو ’انتہائی کم ‘ قرار دیا اور کہا کہ تجارتی معاہدہ سالوں سے التوا میں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں کرد ٹھکانوں پر حملے، امریکا نے ترکی پر پابندیاں لگادیں

لندن میں کیپٹل اکنامکس کے سینئر ایمرجنگ مارکیٹس اکنامسٹ جیسن ٹووے نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے ابتدائی خاموش ردعمل صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب ہے۔

جیسن ٹووے نے کہا کہ موجودہ پابندیوں سے ایک خطرہ یہ ہے کہ ترکی کے خلاف کارروائی سے متعلق کانگریس کی حمایت کی وجہ سے پابندیاں سخت ہونے کا خطرہ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت پر براہ راست کم اثرات پڑسکتے ہیں اس حوالے سے بڑا خطرہ ملک میں سرمایہ کار اور فنانشل مارکیٹ کا اعتماد ہے۔

امریکی پابندیوں کے نفاذ سے ترکی میں ایک مرتبہ پھر ملک سے رقم باہر لے جانے پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق بات چیت شروع ہوگئی ہے۔


یہ خبر 16 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی