امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے فونز کی فروخت میں اضافہ

16 اکتوبر 2019

ای میل

میٹ 30 — فوٹو بشکریہ ہواوے
میٹ 30 — فوٹو بشکریہ ہواوے

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث بلیک لسٹ میں شامل ہوکر مختلف پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کے منافع میں کوئی کمی نہیں آسکی اور جنوری سے ستمبر تک اس کمپنی نے 18 کروڑ 50 لاکھ فونز دنیا بھر میں فروخت کیے جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہیں۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس عرصے میں آمدنی 86 ارب ڈالرز رہی جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24.4 فیصد زیادہ ہے اور یہ اس وقت ہے جب کمپنی نے خود چند ماہ پہلے اپنی مصنوعات کی فروخت سے آمدنی میں 10 ارب ڈالرز کمی کی پیشگوئی کی تھی، جس کی وجہ امریکا کے محکمہ تجارت کی جانب سے بلیک لسٹ کیا جانا تھا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس عرصے میں ہواوے نے دنیا بھر میں 5 جی نیٹ ورک آلات کی فراہمی کے 60 کمرشل معاہدے کیے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

تاہم اب امریکی حکومت نے پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ہواوے سے کاروبار کے لیے لائسنس کے اجرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مگر اس پابندی سے کمپنی نے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز متاثر ہوئے ہیں جو گوگل ایپس سے محروم ہیں جبکہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم بھی اوپن سورس استعمال ہوا، جس کے باعث فونز کی فروخت متاثر ہونے کا بھی امکان ہے۔

ہواوے نے 2018 میں ایپل سے دنیا کی دوسری بڑی اسمارٹ فون فروخت کرنے والی کمپنی کا اعزاز چھینا تھا اور 2019 میں وہ سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کی خواہشمند تھی، مگر امریکی پابندیوں سے فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔

جولائی میں یاہو فنانس سے انٹرویو میں ہواوے کے بانی رین زینگ فائی نے امریکی حکومت کی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کمپنی کے منصوبوں کے ساتھ دیگر چیزوں پر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جب بلیک لسٹ کیا گیا تو ہواوے اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھی اور پابندی کے بعد پہلے 2 ہفتوں میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی، جس کی وجہ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے خدشات تھے۔

تاہم ان کہنا تھا 'اب کمپنی اپنی اہم پراڈکٹس کے لیے امریکی انحصار ختم کرنے کے قابل ہوچکی ہے'۔

ان کے بقول ہواوے کو بلیک لسٹ کرنا امریکا کی جانب سے کمپنی کو جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کی کوشش تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی امریکا کے لیے سیکیورٹی خطرہ نہیں 'ہمارا امریکا میں کوئی نیٹ ور نہیں اور نہ ہی ہم اپنی 5 جی مصنوعات وہاں فروخت کرنے کی خواہ رکھتے ہیں، ٹرمپ کے پاس ہمارے خلاف کچھ نہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ہواوے پر پابندی سے امریکا کو زیادہ نقصان ہوگا خصوصاً فائیو جی کنکشنز کے حوالے سے 'اگر ان کے پاس سپر کمپیوٹر اور سپر لارچ کیپیسٹی کنکشنز ہیں، تو بھی امریکا کو سپر فاسٹ کنکشنز نہ ہونے پر نقصان ہوگا'۔

ان کا کہنا تھا 'ہواوے کو بند کرنا امریکا کے پیچھے رہنے کا آغاز ہے'۔