کرپشن کے الزامات پر متحدہ عرب امارت کے تین کرکٹرز معطل

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

شیمان انور متحدہ عرب امارات کے سب سے بہترین بلے باز ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
شیمان انور متحدہ عرب امارات کے سب سے بہترین بلے باز ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر متحدہ عرب امارات(یو اے ای) کی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد نوید سمیت تین کھلاڑیوں کو فوری طور پر معطل کردیا۔

ورلڈ ٹی20 کوالیفائرز سے قبل کرکٹ کی دنیا ایک مرتبہ کرپشن اسکینڈل کی زد میں ہے جہاں آئی سی سی نے کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر یو اے ای کے کپتان محمد نوید، اسٹار بلے باز شیمان انور اور فاسٹ باؤلر قدیر خان کو معطل کردیا ہے۔

ان کھلاڑیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ورلڈ ٹی20 کوالیفائرز کو کرپشن سے داغدار کرنے کی کوشش کی جہاں متحدہ عرب امارات کی ٹیم کوالیفائرز میں اپنی مہم کا آغاز جمعے سے کرے گی۔

رواں ہفتے کے آغاز میں نوید نے قیادت دستبرداری کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد 31سالہ احمد رضا کو قیادت سونپ دی گئی تھی لیکن اس وقت انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی تھی البتہ بدھ کو آئی سی سی کے بیان کے بعد یہ معاملہ واضح ہو گیا۔

آئی سی سی کی جانب سے تینوں کرکٹرز پر مشترکہ طور پر تیرہ چارجز عائد کئے گئے ہیں جہاں ان تینوں کرکٹرز پر الزام ہے کہ انہوں نے کرپٹ سرگرمیوں اور بکیز کی جانب سے رابطہ کرنے پر آئی سی سی کو اطلاع نہیں کی تھی۔

ان تین کھلاڑیوں پر پابندی سے متحدہ عرب امارات کو بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ نوید اور شیمان ٹیم کے سب سے اہم کھلاڑی تھے اور 14 ٹیموں کے مابین ہونے والے ورلڈ ٹی20 کوالیفائر میں اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔

ان تینوں کے ساتھ ساتھ عجمان میں کرکٹ کھیلنے والے مہر دیپ چایاکر بھی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے ہیں اور ان پر بھی کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔