ترکی کا شام میں مقاصد کے حصول تک آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

ترک فوج نے کرد باغیوں سے 100 کلومیٹر کا علاقہ واگزار کرالیا ہے—فوٹو:اے ایف پی
ترک فوج نے کرد باغیوں سے 100 کلومیٹر کا علاقہ واگزار کرالیا ہے—فوٹو:اے ایف پی

ترکی نے امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے شدید دباؤ کے باوجود اپنے مقاصد کے حصول تک شام میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں آپریشن جاری رہے گا اور شام کے مسائل کا واحد حل کرد فورسز کے ہتھیار ڈالنے، ان کے تمام ٹھکانوں کے تباہ کرنے اور ہمارے بنائے ہوئے سیف زونز سے انہیں بے دخل کرنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو شام سے بے دخل کرنے کے اعلان کے بعد ترک فوج نے گزشتہ ہفتے سرحدی علاقے راس العین میں کرد باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا تھا جس پر امریکا اور روس سمیت یورپی ممالک نے انقرہ پر آپریشن ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:شام میں عسکری خلا کو پر کرنے کیلئے روسی افواج تعینات

ترکی کے آپریشن کے بعد ٹرمپ نے مائیک پومپیو اور مائیک پینس کو فوری طور پر ترکی بھیج دیا ہے تاکہ نیٹو اتحاد میں شامل اہم ملک کے ساتھ بحران بڑھنے نہ پائے۔

ٹرمپ کو شام سے اپنی ایک ہزار فوجیوں کو واپس بلانے پر تنقید کا بھی سامنا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ترکی کو اپنی فوجوں کو شام بھیجنے کا موقع ملا ہے۔

پینس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ طیب اردوان سے ملاقات کریں گے اور انہیں ‘جنگ بندی کے لیے امریکی عزم سے آگاہ کریں گے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کے لیے شرائط پر بات ہوگی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ معاشی پابندیوں کے سلسلے کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔

یہ بھی پڑھیں:شام میں کرد ٹھکانوں پر حملے، امریکا نے ترکی پر پابندیاں لگادیں

دوسری جانب کردوں کی سرپرستی میں شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا کہنا تھا کہ ‘ہم جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اصل جنگ ابھی شروع ہونی ہے’۔

ادھر روس کا کہنا تھا کہ ترک صدر رجب اردوان اور ولادی میر پیوٹن کے درمیان ملاقات ہوگی تاکہ یہ آپریشن شام اور ترکی کے درمیان جنگ میں بدل نہ جائے۔

روس نے امریکا کی شام سے دستبرداری کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی شام میں تعینات کرنا شروع کردیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے دباؤ کو مسترد کیا اور اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ‘وہ ہم سے کہتے ہیں جنگ بندی کا اعلان کریں لیکن ہم جنگ بندی کا اعلان کبھی نہیں کریں گے’۔

مزید پڑھیں:ترک حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے شام نے شمالی حصے میں فوج تعینات کردی

شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ کرد باغیوں کی جانب سے ترک فورسز اور ان کے پراکسیز کو راس العین کے قریب سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور تل ابیض میں خوف میں اضافہ ہوا ہے۔

ترک فوج نے گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے آپریشن میں اب تک کرد باغیوں سے 100 کلومیٹر کا علاقہ وگزار کروا لیا ہے لیکن راس العین کا علاقہ سری کانی تاحال کردوں کے قبضے میں ہے۔

واضح رہے کہ ترکی شام میں موجود باغی کردوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

کرد جنگجو شام میں امریکی اتحادی تھے اسی لیے ٹرمپ کے اچانک فیصلے کو واشنگٹن میں اپنے اتحادیوں سے دھوکے سے تعبیر کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو کرد جنگجوؤں نے بھی ‘پیٹھ میں چھرا گونپنے’ کے مترادف قرار دیا تھا لیکن امریکی صدر نے اس تاثر کو رد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:اسلحے کی عدم فراہمی کی دھمکیوں سے شام میں جاری آپریشن نہیں رکے گا، اردوان

ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے گزشتہ ہفتے فوج کو کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں ‘دہشت گردوں کی راہداری’ کو ختم کرنا ہے۔