سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد امریکا کا ایران پر سائبر حملے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

امریکی عہدیداران کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے ایران کے ہارڈویئر کو نقصان پہنچا — فائل فوٹو/اے ایف پی
امریکی عہدیداران کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے ایران کے ہارڈویئر کو نقصان پہنچا — فائل فوٹو/اے ایف پی

سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر 14 ستمبر کو ہونے والے حملے کے بعد امریکا کی جانب سے ایران پر سائبر حملے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری واشنگٹن اور ریاض نے تہران پر ڈالی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیداران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سائبر آپریشن ستمبر کے آخری ہفتے میں کیا گیا اور اس کا مقصد ایران کی پروپیگنڈا پھیلانے کی صلاحیت کو ہدف بنانا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران نے امریکی سائبر حملوں کا دعویٰ مسترد کردیا

ان کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے ایران کے ہارڈویئر کو نقصان پہنچا۔

رائٹرز کی رپورٹ پر سوال کے جواب میں ایران کے وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی محمد جاوید کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے یہ خواب دیکھا ہوگا'۔

خیال رہے کہ رواں سال جون کے مہینے میں ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی ڈرون طیارہ گرانے کے بعد امریکا کی جانب سے اس طرح کے حملے محدود ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈرون گرانے پر جوابی وار: ’امریکا کا ایران پر سائبر حملہ‘

14 ستمبر کو سعودی عرب کی سرکاری آئل فیلڈز کے 2 یونٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جس کا الزام سعودی عرب، امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر عائد کیا تھا۔

تاہم ایران نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

پینٹاگون نے رد عمل دیتے ہوئے ہزاروں اضافی فوج اور اسلحہ سعودی عرب میں تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی جون کے مہینے میں امریکی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے ڈرون گرائے جانے کے واقعے کے بعد امریکا نے ایرانی میزائل کنٹرول سسٹم اور جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف سائبر حملے کیے ہیں۔

تاہم ایران نے امریکی میڈیا کی جانب سے سائبر حملوں سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف کوئی سائبر حملہ کبھی کامیاب نہیں ہوا۔