مراکش: ‘اسقاط حمل’ پرقید خاتون صحافی سزا معاف ہونے پر رہا

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

ہاجر ریسونی کو اگست میں گرفتار کیا گیا تھا—فوٹو:رائٹرز
ہاجر ریسونی کو اگست میں گرفتار کیا گیا تھا—فوٹو:رائٹرز

مراکش کے بادشاہ محمد ہشتم نے خاتون صحافی ہاجر ریسونی کو غیرقانونی اسقاط حمل اور غیرازدواجی تعلقات رکھنے پر سنائی گئی ایک سالہ سزا کو معاف کردیا جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق مراکشی وزارت انصاف کا کہنا تھا کہ 28 سالہ خاتون کو بادشاہ محمد ہشتم کی جانب سے شاہی معافی کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 30 ستمبر کو عدالت نے مراکش کی خاتون صحافی کو ان کے سوڈانی منگیتر کے ساتھ ایک سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم دونوں کو معافی کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:مراکش: اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار خاتون صحافی کے ٹرائل کا آغاز

اس فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

وزارت انصاف کا کہنا تھا کہ ‘بادشاہ نے جوڑے کی غلطی کے باوجود مذہبی اور قانونی طریقے کے مطابق گھر بسانے کی خواہش پر ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے معافی دے دی ہے’۔

خاتون صحافی ہاجر الریسونی کو 31 اگست 2019 کو پولیس نے اسقاط حمل کے الزام میں ایک کلینک کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون صحافی نے نہ صرف غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کروایا بلکہ شادی سے قبل ایک شخص سے جنسی تعلقات بھی استوار کر رکھے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:ہزاروں مراکشی خواتین کا غیر ازدواجی تعلقات، اسقاط حمل کروانے کا اعتراف

ہاجر ریسونی نے اپنی گرفتاری کے وقت ہی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف تمام الزامات جھوٹے ہیں اور انہیں ان کی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہیں مراکش کے آئین کے آرٹیکل 490 کے تحت سزا دی گئی تھی جس میں غیر ازدواجی تعلقات رکھنے والے افراد کو سزا تجویز کی گئی ہے اور اس قانون کے مطابق کسی بھی خاتون کا اسقاط حمل اس وقت تک غیر قانونی ہوگا جب تک اس کی زندگی کو کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔

پولیس نے ہاجر ریسونی کو 2 ستمبر کو عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا اور بعد ازاں 17 ستمبر کو باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوا تھا اور 30 ستمبر کو سزا سنائی گئی تھی۔