ریلوے میں قرعہ اندازی سے بھرتیوں کی معطلی دیگر محکموں میں تعیناتیوں پر سوالیہ نشان

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

قرعہ اندازی کے نئے  طریقے کے تحت بھرتیوں کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا تھا تاہم پاکستان ریلوے کے حکام نے اسے خفیہ ہی رکھا تھا — فائل فوٹو:بلدیہ کراچی
قرعہ اندازی کے نئے طریقے کے تحت بھرتیوں کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا تھا تاہم پاکستان ریلوے کے حکام نے اسے خفیہ ہی رکھا تھا — فائل فوٹو:بلدیہ کراچی

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان ریلوے میں قرعہ اندازی کے ذریعے ہونے والی تعیناتیاں معطل کرنے کے فیصلے سے دیگر وفاقی وزارتوں اور محکموں میں اس طریقہ کار کے تحت تعیناتیوں پر سوالیہ نشانہ لگ گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس جب موجودہ حکومت آئی تو وفاقی اداروں میں ایک لاکھ 71 ہزار آسامیاں خالی تھیں۔

وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 17 جون کو سول سرونٹ (تعیناتی، پروموش اور منتقلی) سے متعلق قوانین، 1973 میں ترمیم متعارف کروائی تھی۔

ترمیم کے بعد رول نمبر 16 میں لفظ ’بیسس‘ کو ’بیلٹننگ‘(قرعہ اندازی) سے تبدیل کیا گیا تھا، یہ ترمیم گریڈ ایک سے 5 تک کی تعیناتی پر مرکوز تھی۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ کی روالپنڈی اور بہاولپور بینچز نے پاکستان ریلویز ایمپلائیز ( پریم ) یونین اور سگنلز پوائنٹس مین کی تنظیم کی درخواستوں پر تعیناتی کے طریقہ کار کو معطل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: محکمہ ریلوے میں قرعہ اندازی سے کی گئیں 845 تعیناتیاں معطل

اس حوالے سے پاکستان ریلوے کی مرکزی یونین نے کہا کہ وہ دیگر صوبوں میں بھی قرعہ اندازی کے ذریعے تعیناتیوں کو چیلنج کرے گی۔

یونین کے صدر حافظ سلمان بٹ نے ڈان کو بتایا کہ "ہم اب اس ’پرچی جوا‘ (قرعہ اندازی) کو سندھ اور دیگر صوبائی ہائی کورٹس اور بینچز میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ یہ بھی آئین کے خلاف ہے"۔

قرعہ اندازی کے نئے طریقے کے تحت بھرتیوں کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا تھا تاہم پاکستان ریلوے کے حکام نے اسے خفیہ ہی رکھا تھا۔

پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ عامر نثار چوہدری نے 2 ستمبرکو ڈان کو بتایا تھا کہ ’ ہماری وزارت سے جاری ہدایات کے مطابق بھرتیوں کے نئے عمل کی کوریج کے لیے میڈیا کو نہیں بلانا، قرعہ اندازی کا طریقہ کار شفاف ہے، ہم نے لاہور میں 2 گھنٹے کے دورانیے پر محیط قرعہ اندازی کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔

تاہم بعد ازاں پاکستان ریلوے کی ڈویژنل انتظامیہ نے آئندہ قرعہ اندازی کے لیے میڈیا کو بھی دعوت دینا شروع کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ ریلوے میں قرعہ اندازی سے کی گئیں تعیناتیاں عدالت میں چیلنج

ادھر ریلوے کے سینئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ جب آپ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف قوانین اور پالیسیاں تبدیل کرتے ہیں، غیر معمولی طریقہ کار متعارف کرواتے ہیں تو اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’عدالت نے کئی ایسے امیدوارواں کی تعیناتیاں بالکل صحیح معطل کی ہیں کیونکہ وہ اس کے اہل نہیں تھے‘۔

ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ متعلقہ قوانین میں ترامیم آئینی قوانین اور بنیادی حقوق ( زندہ رہنے اور ملازمت کے حق) کے خلاف ہیں اور اس ضمن میں ہائی کورٹ کے فیصلے سے لازمی طور پر قرعہ اندازی کے ذریعے جاری تعیناتیوں پر لازمی اثر پڑے گا۔

نامور وکیل سلمان اکرم راجا نے ڈان کو بتایا کہ ’ اگر وہ صرف ایسے افراد بھرتی کرنا چاہتے ہیں جن کے ہاتھ پاؤں سلامت ہوں اور وہ صرف بیگز اٹھائیں تو ایسی تعیناتیاں برداشت کرسکتے ہیں‘۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’تاہم یہ بھی میرٹ کے خلاف ہے گریڈ ایک سے 5 تک کے ملازمین کی بھرتیاں جن کے پاس کچھ تعلیم، تکنیکی معلومات، اچھی صحت وغیرہ ہونی چاہیے، قرعہ اندازی کے ذریعے ان کی تعیناتیاں آئین اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے خلاف ہے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان ریلوے میں قرعہ اندازی کے ذریعے بھرتیوں کا آغاز

انہوں نے کہا کہ ’کیا حکومت نے حقیقت میں ملازمین کی تعیناتی، ترقی اور منتقلی سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ عدالت کے فیصلے سے پاکستان ریلوے اور دیگر وزارتوں میں قرعہ اندازیوں کے ذریعے بھرتیوں کا عمل رک سکتا ہے‘۔

خیال رہے کہ 14 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان ریلوے میں قرعہ اندازی کے ذریعے 845 افراد کی تعیناتیاں معطل کرتے ہوئےدرخواست میں نامزد فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ’ قرعہ اندازی کے ذریعے بھرتیوں کا عمل آئندہ سماعت تک معطل رہے گا‘۔

اس حوالے سے دائےر درخواست کے مطابق ریلوے حکام نے اکتوبر 2018 میں بی ایس 1 سے بی ایس 5 تک کی 323 آسامیوں کے لیے اشتہار دیا تھا۔

جس کے صرف ایک ماہ بعد ایک اور اشتہار دیا گیا اور خالی آسامیوں کی تعداد 322 سے بڑھا کر 845 تک کردی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان ملازمتوں کے لیے ہزاروں افراد نے اپلائی کیا لیکن تعیناتیاں میرٹ کے بجائے قرعہ اندازی کے ذریعے کی گئیں جبکہ ’قرعہ اندازیوں کے ذریعے تعیناتیاں ملکی قوانین کے برعکس' ہیں۔

قرعہ اندازی کو چینلج کرنے کے علاوہ پریم یونین نے درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ’ نصف سے زائد کامیاب امیدواروں کا تعلق وزیر ریلوے کے حلقے سے ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ روالپنڈی ڈویژن (پاکستان ریلوے ڈویژن) میں قومی اسمبلی کے تقریبا 29 حلقوں میں سے زیادہ تر امیدوار صرف شیخ رشید اور ان کے بھتیجے شیخ رشید شفیق کے حلقے سے کامیاب ہوئے‘۔