ایل او سی پر بھارتی جارحیت: سینیٹ کمیٹی کا اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

حکومت کو بھارتی حملوں کے نتیجے میں مالی و جانی نقصان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کرنی چاہیے— فائل فوٹو: اے پی پی
حکومت کو بھارتی حملوں کے نتیجے میں مالی و جانی نقصان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کرنی چاہیے— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر اور گلگت بلتستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ( یو این ایس سی ) کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی جس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ کو بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدوں کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے لیے کمیشن تعینات کرنے اور ایل او سی پر فوجی مبصرین کی نفری بڑھانے پر رضامند کرے۔

مذکورہ قرارداد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمٰن ملک کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں حکومت سے بھارتی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں جانی و مالی کے خلاف عالمی عدالت انصاف ( آئی سی جے) درخواست دائر کرنے کا کہا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ لے جانے کا مطالبہ

قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ’ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر اور گلگت بلتستان بھاری فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جاری سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کرتی ہے، جو ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کی موجودگی میں طے شدہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے‘۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ’ کمیٹی متفقہ طور پر منظور کرتی ہے کہ حکومت پاکستان اس مسئلے کو سیز فائر معاہدے کی لگاتار اور بلااشتعال خلاف ورزیوں پر ایک شکایت کی صورت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائے‘۔

قرارداد میں کہا گیا کہ’ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی تمام خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیشن تعینات کرنے اور ایل او سی پر سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کی نفری میں اضافہ کرے‘۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ’حکومت پاکستان کو بھارتی حملوں کے نتیجے میں مالی و جانی نقصان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں بھی درخواست دائر کرنی چاہیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ظلم روکنے کیلئے کردار ادا کرے'

پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد اجلاس کی سربراہی سینیٹر پروفیسز ساجد میر نے کی تھی ،اس موقع پر سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ وہ اس حوالے سے چند تجاویز کے ساتھ وزیر خارجہ کو خط بھی لکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی فورسز اقوام متحدہ کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان 27 جولائی 1949 میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔

رحمٰن ملک نے کہا تھا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر لگاتار خودکار ہتھیاروں سے شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے شہریوں کا نشانہ بنایا قابل مذمت، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے 2005 میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد موصول ہونے والی مالی معاونت کے آڈٹ کے لیے انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

رحمٰن ملک نے کہا تھا انکوائری کمیشن کو معلوم کرنا چاہیے کہ اربوں روپے کی امداد کہاں سے آئی تھی اور یہ رقم کہاں خرچ کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ بالاکوٹ اور دیگر علاقوں میں ماڈل دیہات قائم کیے جائیں گے لیکن اکثر زلزلہ متاثرین کے تاحال بے گھر ہونے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔


یہ خبر 17 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی