'وزیراعظم اور آرمی چیف سیٹھوں کے بجائے نوجوانوں سے زیادہ ملا کریں'

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

وفاقی وزیر نے یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کیا—اسکرین شاٹ
وفاقی وزیر نے یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کیا—اسکرین شاٹ

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف سیٹھوں سے ملنے کے بجائے نوجوانوں سے زیادہ ملا کریں۔

راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آغاز بہت اچھا تھا لیکن 70 کی دہائی میں مشرقی پاکستان کا سانحہ اور 80 کی دہائی میں افغان تنازع میں پھنسنے سے ہم اپنی منزل سے دور ہوتے گئے۔

مزید پڑھیں: ایک کروڑ سرکاری نوکریوں کا وعدہ نہیں کیا تھا، فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ اس آغاز کو پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے واحد راستہ سائنس و ٹیکنالوجی، عقل و شعور پر اپنی بنیاد رکھنا ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کی امید ہیں اور میں وزیراعظم، آرمی چیف اور ملک کی قیادت کو کہتا ہوں کہ 'آپ روز سیٹھوں کو بلاتے ہیں، وہ تو یہی کہیں گے کہ ہمارے 5 ارب کو 10 ارب کردیں، آپ لوگ نوجوانوں سے زیادہ ملا کریں، ان کے پاس مستقبل کے خیالات ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ نوجوان پاکستان کے بڑے مستقبل کی بنیاد رکھیں گے'۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ میں تو اس وزارت کا وزیر بننا نہیں چاہتا تھا کیونکہ پاکستان میں اس کا اتنا رواج نہیں ہے لیکن ہم نے اس وزارت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ جدید معیشتوں کو نجی شعبہ آگے بڑھاتا ہے کبھی بھی حکومت اس کو نہیں چلاتی، حکومت کا کام ہے کہ نجی شعبے کو وہ ماحول دے جس میں وہ ترقی کرسکے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے یونیورسٹیز کو بزنس کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے وہ جامعات جو تحقیق میں کام کر رہی وہ انٹرپرینیوز بنیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت 400 محکموں کو بند کرنے پر غور کر رہی ہے، فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ہر ادارہ حکومتی فنڈنگ پر انحصار کررہا کہ حکومت فنڈنگ کردے، اگر حکومت پیسے دے رہی تو وہ ٹیکس دہندگان سے پیسے لے رہی، پاکستان میں 2 بڑے مسئلے ہیں ایک پیسے کم ہیں دوسرا ہم پیسے ضائع بہت کرتے، گزشتہ حکومتوں میں بہت سے ایسے منصوبے ہیں جن پر پیسوں کو ضائع کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم معمول کے آلو، مٹر، کپاس، گنا بیچ کر پاکستان کی معیشت کو بڑا سہارا نہیں دے پائیں گے، ہمیں جدید رجحانات اور زراعت کی طرف آنا ہوگا، کسانوں کو جدید تکنیک پر جانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سرکاری ملازمتیں مشکل ہے سے متعلق بات کی تو میڈیا میں طوفان آگیا، تاہم جو بھی بندہ معیشت کی الف، ب بھی جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ نجی شعبہ معیشت کو چلاتا ہے اور نوکریوں میں بھی اسی شعبے نے آگے بڑھنا ہے۔

'مولانا فضل الرحمٰن سیاستدانوں والا رویہ اختیار کریں'

علاوہ ازیں میڈیا نمائندوں سے اپنی گفتگو میں انہوں نے اپوزیشن جماعت جے یو آئی (ف) کے معاملے پر کہا کہ کبھی ان کی ویڈیوز آجاتی ہیں کہ وہ ڈنڈے لے کر پھر رہی ہے، کبھی سیلیوٹ کی ویڈیوز آتی ہیں، شاید ان کا خیال ہے کہ لوگ اس سے ڈر جائیں گے لیکن ایسا ہوگا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سیاست دان ہیں، وہ ویسا ہی رویہ اختیار کریں، مولانا فضل الرحمٰن اور نواز شریف کو یہ بتانے کا شوق ہے کہ ہم اتنے اہم ہیں کہ غیرملکی دوروں میں ہم پر بات ہوتی ہے مگر ممالک کے بڑے بڑے معاملات میں یہ لوگ نہیں بلکہ ملکوں کی بات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔