ایف بی آر ملک پر بوجھ ہے، اسے ختم کردیں، جسٹس گلزار احمد

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

عدالت عظمیٰ میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت عظمیٰ میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار احمد نے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ایف بی آر ملک پر بوجھ ہے، اسے ختم کردیں دیکھیں پھر کتنا پیسہ جمع ہوتا ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس گلزار احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ایف بی آر کے ملازم محمد انور گورایہ کی درخواست پر سماعت کی۔

اسی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد ایف بی آر پر کافی برہم ہوئے اور انہوں نے سخت ریمارکس دیے۔

مزید پڑھیں: جسٹس گلزار احمد نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف بی آر ملک پر بوجھ ہے، ہرسال کھربوں روپے چلے جاتے ہیں، ایف بی آر نے 22 ہزار کی فوج کیا ریکوری اکٹھا کرے گی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ایف بی آر کو ختم کردیں، دیکھیں کتنا پیسہ جمع ہوتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس گلزار نے مزید ریمارکس دیے کہ 80 فیصد ٹیکس بالواسطہ جمع ہوتا ہے، صرف 20 فیصد ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے 22 ہزار بندے ایف بی آر میں رکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تمام ادارے خراب ہوچکے، ملک کا نظام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، جسٹس گلزار

بعد ازاں مختصر سی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے ایف بی آر کے سروس میٹر میں ملازم کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ جسٹس گلزار احمد کا شمار سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ججز میں ہوتا ہے اور ان کے اس طرح کے سخت ریمارکس کئی دفعہ سامنے آچکے ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس کا عہدہ جسٹس گلزار احمد سنبھالیں گے اور وہ 20 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بعد اس عہدے پر فائز ہوں گے اور یکم فروری 2022 تک ریٹائر ہوجائیں گے۔