بغاوت کے الزامات: جیو نیوز کی درخواست پر پیمرا سے جواب طلب

17 اکتوبر 2019

ای میل

ہائی کورٹ نے جیو نیوز کی 
درخواست پر پیمرا سے جواب طلب کر لیا— فائل فوٹو: آن لائن
ہائی کورٹ نے جیو نیوز کی درخواست پر پیمرا سے جواب طلب کر لیا— فائل فوٹو: آن لائن

پاکستان کے نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز نے پیمرا کی جانب سے بغاوت پر اکسانے کے الزامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔

پیمرا نے دو ماہ قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف مبینہ طور پر بغاوت پر اکسانے کا حامل پروگرام نشر کرنے اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے جیو نیوز کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور نشریاتی ادارے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: پیمرا نے تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی پر پابندی عائد کردی

پیمرا کا موقف تھا کہ میزبان شاہ زیب خانزادہ نے 18جولائی کو نشر کیے گئے اپنے پروگرام 'آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ' میں اسکینڈل کی حامل ویڈیو کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے نیب کے سربراہ کو 'یکطرفہ بنیادوں پر' ہدف بنایا اور اس حوالے سے نیب کا موقف نہیں لیا۔

پیمرا کے اس اقدام کے خلاف جیو نیوز نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جس میں پیمرا کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان کے آئین کے تحت پیمرا کو اس بات کا کوئی استحقاق نہیں کہ وہ دوسروں پر بغاوت کے الزام لگا کر سرٹیفکیٹ تقسیم کرتا پھرے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے جنگ جیو گروپ کی درخواست پر سماعت کی جبکہ درخواست گزار کی جانب سے بہزاد حیدر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

مذکورہ درخواست میں پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں عدالت کے روبرو پیمرا کے قانونی مشیر طاہر تاڑر نے پیش ہو کر درخواست کی مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھیں: 'ریاستی اداروں' کے خلاف پروگرام پر جیو نیوز کو 10 لاکھ روپے جرمانہ

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ پیمرا کے نوٹس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کا چینل کے خلاف رویہ امتیازی، جانبدارانہ اور نامناسب ہے، پیمرا کے بغاوت کے الزامات غیر قانونی ہیں اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نیب کے دفاع میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

جیو نیوز نے کے وکیل نے کہا کہ پیمرا نے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 (اے) کی خلاف ورزی کی اور عدالت سے استدعا کی کہ وہ پیمرا کو ہدایت کرے کہ وہ قانون کے دائرہ میں رہے ہوئے کام کرے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو پابند کرے کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کے تحت ان کے پاس کسی پر بغاوت کا الزام لگانے کا کوئی اختیار نہیں اور الزام لگا کر وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک فوج پر’ادارہ جاتی کرپشن‘کا تبصرہ:جیو نیوز کو 10لاکھ کا جرمانہ

نشریاتی ادارے نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ بھی حکم جاری کرے کہ آئین کے تحت جیوز نیوز کو کوئی بھی خبر، کوئی بھی جائز تبصرہ اور نیب کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنانے کی آزادی ہے جہاں اس سلسلے میں نیب کا بھی موقف لیا جائے گا۔

جیو نیوز نے استدعا کی کہ پیمرا کو پابند کیا جائے کہ جب تک نیب درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے، اس وقت تک ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی خبر یا پروگرام پر پیمرا جیو نیوز کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور سماعت کو غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا۔