اسمارٹ فون کا استعمال قبل از وقت بڑھاپے کا شکار بناسکتا ہے؟

17 اکتوبر 2019

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر کا استعمال اب بیشتر افراد کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے مگر ان ڈیوائسز سے خارج ہونے والی روشنی کی زد میں بہت زیادہ رہنا ممکنہ طور پر قبل از وقت بڑھاپے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ فون، کمپیوٹر اور دیگر ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی کی زد میں زیادہ دیر رہنا آنکھوں کے ساتھ ساتھ دماغی خلیات کو تباہ کرسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا کہ نیلی ویو لینتھ دماغی خلیات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔

اس حوالے سے محققین نے فروٹ فلائیز پر تجربات کیے اور انہیں نیلی روشنی کی زد میں رکھا گیا جو براہ راست ان کی آنکھوں میں نہیں جارہی تھی، مگر اس کے باوجود بڑھاپے کی جانب سفر کی رفتار تیز ہوگئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ مصنوعی روشنی کے نتیجے میں ان کیڑوں کی زندگی کی مدت میں ڈرامائی کمی بھی دیکھنے میں آئی۔

طبی جریدے ایجنگ اینڈ میکنزمز آف ڈیزیز مٰں شائع تحقیق میں جن فروٹ فلائیز کو استعمال کیا گیا ان کے سیلولر اور دیگر میکنزم دیگر جانوروں اور انسانوں سے ملتے جلتے ہیں۔

ان کیڑوں کو روزانہ 12 گھنٹے نیلی روشنی اور 12 گھنٹے تاریکی میں رکھا گیا جس کے نتیجے میں ان کی زندگی کی مدت 15 فیصد کم ہوگئی۔

محققین نے دریافت کیا کہ نیلی ایل ای ڈی روشنی سے دماغی اعصاب اور آنکھوں کے قرینے کے خلیات کو نقصان پہنچا۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس نیلی روشنی سے کیڑوں کی عمر میں تیزی سے اضافہ شروع میں حیران کن لگا مگر نتائج سے معلوم ہوا کہ تناﺅ پر ردعمل ظاہر کرنے والے حفاظتی جینز زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال ان نتائج کا اطلاق انسانوں پر مکل طور پر نہیں کیا جاسکتا، مگر یہ سب جانتے ہیں کہ اس وقت لوگوں میں اس نیلی روشنی میں رہنے کا رجحان بڑھ گیا ہے کیونکہ ایل ای ڈی بلب سے بھی یہ روشنی خارج ہوتی ہے مگر اب تک انسانی زندگی پر اس کے مکمل اثرات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں مل سکی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مصنوعی روشنی کی زد میں کم رہنا یقیناً انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہی ثابت ہوگا کیونکہ اس سے نہ صرف نیند کا معیار بہتر ہوگا بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس سے قبل گزشتہ سال امریکا کی ٹولیڈو یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ اسمارٹ فونز سے خارج ہونے والی یہ روشنی ہمارے قرینے میں جذب ہوکر ایسے زہریلے کیمیکل کی پیداوار کو حرکت میں لاتی ہے جو خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اس نقصان کے نتیجے میں بینائی میں بڑے بلائنڈ اسپاٹس بنتے ہیں جو پٹھوں میں تنزلی کی علامت ہوتے ہیں، یہ ایک ایسا مرض ہے جو اندھے پن کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ اندھیرے میں ان ڈیوائسز کو استعمال نہ کریں کیونکہ اس وقت زیادہ خطرناک نیلی روشنی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ آنےوالی تنزلی عام طور پر 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو شکار بناتی ہے جس سے اندھے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔