اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، انتشار کی اجازت نہیں دیں گے، وزیر دفاع

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

اگر اپوزیشن جماعتوں کا ایجنڈا تشدد کے ذریعے انتشار پھیلانا ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے
— فوٹو: اے پی پی
اگر اپوزیشن جماعتوں کا ایجنڈا تشدد کے ذریعے انتشار پھیلانا ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے — فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد : وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن کسی کو ملک میں انتشار کی اجازت نہیں دیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو کی نیوز کانفرنس کے چند منٹ بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ ’اگر اپوزیشن کا کوئی مسئلہ یا ایجنڈا ہے تو انہیں اپنے ساتھ لانا چاہیے ہم اس پر بات کرسکتے ہیں‘۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ’اگر اپوزیشن جماعتوں کا ایجنڈا تشدد کے ذریعے انتشار پھیلانا ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے‘۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کی جانب سے ان کی سربراہی میں تشکیل کی جانے والی مذاکراتی کمیٹی میں 5 سے 6 سینئر ارکان شامل ہوں گے اور یہ جلد تشکیل دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ میں ہر ممکن تعاون کریں گے، بلاول بھٹو

تاہم وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو پیغام دیتے ہوئے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کا کہا تھا کیونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا صاحب کو بتایا کہ ہم پٹھان ہیں اور ہم جرگے کے ذریعے اپنے معاملات حل کرتے ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وہ آج (18 اکتوبر) سے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں میں تیزی لائیں گے۔

پرویز خٹک کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ(ن)، عوامی نیشنل اور پشتون تحفظ موومنٹ سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کریں گے جنہوں نے ’ آزادی مارچ‘ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو انتشار سے بچانے کی ہرممکن کوشش کرے گی، ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ 27 اکتوبر سے قبل ان کی کوششوں کے ثمرات نظر آئیں گے۔

ایک سول کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ ’مضحکہ خیز ‘ ہے۔

اس سے قبل نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو نے کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو جلسہ کرکے اسلام آباد سے واپس نہیں جانا چاہیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اس حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے احتجاج کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ 16 اکتوبر کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے کہا تھا کہ استعفے سے پہلے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘مذاکرات سے پہلے استعفیٰ ضروری ہوگا تاکہ استعفے کے بعد کی صورت حال پر مذاکرات کیے جاسکیں’۔

مزید پڑھیں: استعفے سے پہلے مذاکرات نہیں ہوسکتے، مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا تھا کہ 'آزادی مارچ' اب 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا جبکہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ 'یوم سیاہ' منائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر کو ملک بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے یوم سیاہ منائیں گے، اس روز ریلیاں نکالی جائیں گی، یوم سیاہ کے بعد کارکان اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کریں گے۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے کے اعلان سے متعلق کہا تھا کہ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، تاہم انہوں نے دھرنے میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔