افسانہ: جنگ میں پرندے گیت نہیں گاتے

18 اکتوبر 2019

ای میل


جنگ میں آبادی کے اعداد و شمار


’میں نے تمہیں 40 سال پہلے دیکھا تھا، اس وقت تمہارے بال سیاہ اور مونچھیں لمبی تھیں۔ تم ہمارے گاؤں میں مقامی آبادی کی گنتی کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے جو ان دنوں گاؤں کے اسکول میں رہائش پذیر تھی۔

میرے ابّا اسکول میں استاد تھے اور پوری ٹیم کے لیے کھانا ہمارے گھر سے جاتا تھا۔ میں نے تمہیں اپنی ٹیم کو یہ کہتے کئی بار سُنا تھا کہ آبادی کے اعداد و شمار بالکل درست ہیں اور تم یہ کام بہت محنت سے سر انجام دے رہے تھے۔ میں نے جب تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تو یوں لگا کہ جیسے میں تمہیں برسوں سے جانتی ہوں، یہ بہت عجیب بات تھی جس کے بارے میں کبھی بتا نہیں سکی۔

پھر انہی دنوں جنگ چِھڑ گئی اور گاؤں میں ہروقت سائرن بجتے رہتے۔ آخری بار میں نے تمہیں سائرن بجنے سے پہلے دیکھا تھا جب تم گلی کا موڑ مُڑرہے تھے۔ ہم سب گھر والے تہہ خانے میں چُھپ گئے تھے اور ریڈیو پر جنگ کے بارے میں خبریں سنتے رہتے۔ ان خراب حالات کے باوجود میں تہہ خانے میں تمہارے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔ پھر جب جنگ ختم ہوئی تو آبادی کی تعداد وہ نہ رہی جو جنگ سے پہلے تھی اور تمہارے اعداد و شمار سب غلط ہوگئے جن کو ٹھیک کرنے کے لیے تم نہیں تھے۔‘

بُڑھیا ایک قبر کے کتبے سے گفتگو کرکے واپسی کے لیے مُڑ گئی۔


ایٹم بم اور روٹی


جب جنگ کے سائرن بجے تو ایک اسکول میں استاد نے بچوں سے کہا کہ بچوں گھبرانے کی ضرورت نہیں، جنگ سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ہمارے پاس ایک ایسا طاقتور ایٹم بم ہے جو چند منٹوں میں دشمن کو صفحہءِ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔

کلاس میں موجود ایک بھوک سے نڈھال بچہ کہ جس کے یونیفارم کی شرٹ کے بٹن ٹوٹے اور جوتے پھٹے ہوئے تھے، حیرت سے استاد کی بات سُن رہا تھا۔ پھر اس نے ہمت مجتمع کرکے پوچھا

’استادِ محترم! کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم یہ ایٹم بم بیچ کر بہت سی روٹیاں اور کپڑے خرید لیں؟‘

’بدتمیز! دفع ہوجاؤ یہاں سے،‘ استاد کو اچانک غصہ آگیا۔


جنگ میں کھیتی باڑی


وہ ایک غریب کسان تھا اور اس نے اس بار قرض لے کر فصل کی بوائی کی تھی۔

’اس بار فصل بہت اچھی ہوئی ہے، سب قرض واپس لوٹا دوں گا،‘ اس نے اپنی بیوی سے کہا جو اس کے ساتھ فصل پک جانے کی منتظر تھی۔

وہ میاں بیوی ایک ایک دن گِن کر گزار رہے تھے۔ پھر ایک روز جہاز ان کے کھیت پر بم پھینک کر چلے گئے۔

کسان اس وقت کھیت سے کافی فاصلے پر تھا۔ جب اس نے اپنا کھیت آگ کے شعلوں میں جلتا دیکھا تو وہ دوڑ کر گھر واپس آیا۔

’وہ جہاز نے ہمارے کھیت پر بم پھینک دیا ہے،‘ اس نے بیوی سے روتے ہوئے کہا۔

’نہیں، یہ نہیں ہوسکتا۔ کیا سب کچھ جل گیا؟‘

’ہاں سب۔ میں اس وقت کافی فاصلے پر تھا، کاش میں اس وقت کھیت میں ہی ہوتا۔‘


جنگ میں پرندے گیت نہیں گاتے


جب جنگ کے سائرن بجے تو ہم دریا میں تیر رہے تھے اور پرندے اپنے گیت گاتے ہوئے دُور کے دیسوں سے ہجرت کرکے ہمارے دریا کے پانیوں پر اُتر رہے تھے۔ سائرن بج اٹھے اور ہم گھروں کی جانب دوڑے جہاں دروازوں پر خوف سے بھری آنکھیں ہماری منتظر تھیں۔

’چھپ جاؤ، چھپ جاؤ، اس سے پہلے کہ دشمن تمہیں دیکھے، تم سب اپنے تاریک کمروں میں چھپ جاؤ۔‘

سو ہم اپنے تاریک کمروں میں چھپ گئے، جہاں روشنی کی کرنیں بس جھریوں سے جھانکا کرتی تھیں جن کے ذریعے ہم تاریکی میں اپنے راستے تلاشتے تھے۔

جنگ میں معلوم نہیں پرندے کہاں جاتے ہیں کہ ان دنوں تاریک کمروں کی جھریوں سے ہم جب بھی باہر دیکھتے ہمیں کوئی پرندہ نظر نہ آتا، درختوں کی شاخیں اپنے پتے گِرا کر بانجھ ہوچکی تھیں اور ان پر کوئی گھونسلہ نہیں تھا۔ میرا بھائی جسے پرندوں کے گیتوں سے عشق تھا وہ ابّا سے بار بار پوچھتا تھا،

’ابّا دریا کے پانیوں پر اُترتے پرندے اب کہاں ہوں گے؟ کیا وہ ابھی بھی گیت گارہے ہوں گے؟‘

’جنگ میں پرندے گیت نہیں گاتے میرے بچے‘، ابّا نے انتہائی دُکھ بھرے لہجے میں یہ بات سمجھائی۔


ایک وقت، دو کہانیاں


ایک ہی وقت میں زندگیاں کتنی مختلف ہوسکتی ہیں۔ جہاز چلانے والے پائلٹ کے بیٹے کی سالگرہ تھی اور وہ خود حالتِ جنگ میں تھا، اس کا خیال تھا کہ کام نپٹا کر فوراً یونٹ پہنچ کر ویڈیو کال کرکے بیٹے کو سالگرہ کی مبارک باد دے گا۔

دوسری طرف ملبے پر بیٹھی جمال بی بی کی بین کرتی آواز تھی جو اِرد گرد سارے ماحول کو اداس کررہی تھی۔ ملبے سے تھوڑے فاصلے پر کیکر کے درخت پر بیٹھے پرندوں نے چہچہانا چھوڑ دیا تھا، وہ غالباً جمال بی بی کے دُکھ میں شریک تھے۔

ایک عمر لگی خواب دیکھتے اور پھر ذرہ ذرہ اکھٹا ہوکر اینٹیں بنائیں، نامعلوم کتنی صدیوں سے جمع کی گئی اینٹیں آپس میں جڑیں تو ایک گھر بنا، وہ گھر جس کے ملبے پر وہ بیٹھی ہوئی تھی اور مرد جنازے اٹھا کر قبرستان روانہ ہوچکے تھے۔

وہ اس قدر دکھی تھی کہ اسے بیان کرنا ممکن نہیں، کوئی ہنستا آدمی اسے دیکھ لیتا تو عمر بھر ہنسنا ترک کردیتا۔ گھر کے ملبے کے اوپر بیٹھی، وہ یکایک اٹھی اور مٹی کے ڈھیر کو اِدھر اُدھر بکھیرنے لگی، اسے کسی چیز کی تلاش تھی۔ آخر کافی تلاش بسیار کے بعد اس نے ملبے سے چار جوتے ڈھونڈ نکالے جن کے تلوے گھس چکے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان جوتوں کو زمانوں تک استعمال کیا جاتا رہا تھا۔ وہ مٹی سے بھر چکے تھے، وہ انہیں اپنے برقعے سے صاف کرنے لگی۔

وہ لگاتار رو رہی تھی، صاف کرنے کے بعد اس نے جوتوں کو ایک ترتیب سے اپنے سامنے رکھا اور اونچی آواز میں بین کرنے لگی۔

کچھ دیر بعد اس نے ہر جوتے کو باری باری چوم کر آنکھوں سے لگایا۔

جمال بی بی کا شوہر اور بچے جہاز سے پھینکے گئے بم حملے میں مارے جاچکے تھے۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ کنویں سے پانی بھرنے کے دوران اس کی دنیا لُٹ جائے گی تو وہ یقیناً اپنے شوہر اور بچوں کو بھی ساتھ لے جاتی یا پھر ایسا ممکن نہ ہوتا تو وہ اسی ملبے تلے دب کر پانچویں لاش بننا گوارا کرلیتی لیکن یوں اس طرح سبھی پیاروں کو مٹی کے حوالے کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔

پائلٹ بم پھینکنے کے بعد اپنے یونٹ پہنچ چکا تھا، اس نے نہا دھو کر موبائل سے اپنی بیوی کو ویڈیو کال کی۔

’جان تھک گئے ہو؟‘، بیوی نے فوراً پوچھا۔

’تمہاری اور بیٹے کی محبت بھلا مجھے کہاں تھکنے دیتی ہے، ان پہاڑوں پر جہاز اڑاتے ہوئے بھی مجھے تم ہر لمحہ یاد آتے ہو۔ آہ! یہ محبت بھی انسان کو کس قدر مجبور کردیتی ہے، میں آج ایک جگہ بم پھینکنے لگا تو تب بھی مجھے یاد تھا کہ آج میرے بیٹے کی پہلی سالگرہ ہے، کاش میں وہاں ہوتا تو اسے گلے لگا کر سالگرہ کی مبارک باد دیتا۔ اچھا اب جلدی سے مجھے میرا بیٹا دکھاؤ،‘ بیوی نے بچے کو بستر سے اٹھا کر گود میں بھر لیا اور چہرہ اسکرین کے سامنے کردیا۔

’آہ میرا بچہ سالگرہ مبارک۔‘