پاکستان فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

ایف اے ٹی ایف کے صدر نے پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا—فوٹو: رائٹرز
ایف اے ٹی ایف کے صدر نے پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا—فوٹو: رائٹرز

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کو تسلیم کرتے ہوئے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ 4 ماہ (فروری 2020) تک پاکستان 'گرے لسٹ' میں ہی رہے گا۔

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے اختتام پر ٹاسک فورس کے صدر شیانگ من لو نے پریس کانفرنس کی اور اس بات کے بارے میں بتایا کہ پاکستان کو مزید 4 ماہ کے لیے اسی فہرست میں رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی 'بلیک لسٹ' میں شامل کرانے کی کوششیں کی گئی تھی لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ہوگئیں اور ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا۔

ایف اے ٹی ایف کے بیان کے مطابق 'اسلام آباد کو ہدایت کی گئی وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے'۔

مزید پڑھیں: پاکستان آئندہ برس فروری تک ایف اے ٹی ایف کی ‘گرے لسٹ‘ میں موجود رہے گا

پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

ٹاسک فورس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ 'ایف اے ٹی ایف پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ فروری 2020 تک اپنے مکمل ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے'۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن پر مکمل طریقے سے موثر اور نمایاں پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف کارروائی کرے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ 'جون 2018 سے جب پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خاتمے (سی ٹی ایف) کو مضبوط بنانے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سے پاکستان نے اے ایم ایل/ سی ایف ٹی سے متعلق کافی پیش رفت کی'۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان نے اپنے ایکشن پلان اور اے ایم ایل/ سی ایف ٹی اصلاحات پر عملدرآمد کرنے کے لیے اپنے سیاسی عزم کا اعادہ کیا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق 'پاکستان کو اسٹیریٹجک خامیوں کو دور کرنے کے لیے اس کے ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری رکھنا چاہیے'۔

تاہم 'حالیہ بہتریوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خطرات کو دور کرنے سے متعلق پیش رفت میں مجموعی کمی پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں پاکستان کے بین الاقوامی ٹیرر فنانسنگ خطرات کو سمجھنے میں کافی حد تک فہم کا مظاہرہ کرنے میں باقی رہنے والی خامیاں بھی شامل ہیں'۔

ساتھ ہی اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ 'پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی سطح مختلف ہیں'۔

پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے عزم کا اظہار

دوسری جانب پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد بیان جاری کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے عزم کا دوبارہ اظہار کرتا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 13 سے 18 اکتوبر 2019 تک پیرس میں ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن محمد حماد اظہر نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پیش کرنے کیلئے عملدرآمد رپورٹ تیار

مذکورہ بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان اور پاکستان کی اے پی جی میوچل ایوالوشن رپورٹ (ایم ای آر) پر پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔

اجلاس میں پاکستانی وفد نے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے سیاسی عزم کا اظہار کیا، جس کے بعد اجلاس میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر جمود برقرار رکھنے اور اے پی جی ایم ای آر کے لیے 12 ماہ کے مشاہدے کی مدت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفد نے اجلاس کی سائڈ لائن پر مختلف ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان اور اے ایم ایل/سی ایف ٹی فریم ورک کو مضبوط کرنے سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔

بیان کے مطابق یو این او ڈی سی اور اے پی جی سیکریٹریٹ کے اشتراک سے پاکستان کی تکنیکی مددد اور تربیت کی ضروریات سے متعلق ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں چین، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، یورپین یونین، عالمی بینک، آئی ایم ایف، اے ڈی پی اور یو این او ڈی سی سمیت مختلف ممالک اور کثیرالجہتی ایجنسیوں نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ 16 اکتوبر کو ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے آئندہ برس فروری تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ساتھ ہی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو آئندہ 4 ماہ میں دہشت گردوں کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خاتمے سے متعلق مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے جسے گزشتہ برس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے میں غیر مطمئن اقدامات کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی زیر قیادت میں پاکستانی وفد نے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بتایا تھا کہ پاکستان نے 27 میں سے 20 تجاویز میں مثبت پیش رفت کی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس

واضح رہے کہ پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر تک ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوا تھا، جس میں 205 ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور دیگر تنظیموں کے اراکین نے بھی شرکت کی تھی۔

اسی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت حماد اظہر نے کی تھی اور پاکستان کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق بتایا تھا۔

مزید پڑھیں: انسداد منی لانڈرنگ: پاکستان کی تیسری جائزہ رپورٹ منظور

پاکستان کے اقدامات کو چین، ترکی اور ملائیشیا نے سراہا تھا تاہم بھارت نے پاکستان کو اس درخواست پر بلیک لسٹ کرنے کی تجویز دی تھی کہ اسلام آباد نے حافظ سعید کو اپنے منجمد اکاؤنٹس سے فنڈز نکالنے کی اجازت دی۔

تاہم ترکی، چین اور ملائیشیا کی توسیعی حمایت کی بنیاد پر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنے اور دیگر اقدامات پر عملدرآمد کے لیے مزید مہلت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

دریں اثنا پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کے فیصلے کو بھی حکومت کی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے، مزید براں فناشنل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور مالی ذرائع تک دہشت گردوں کی رسائی کے خاتمے سے متعلق کیے جانے والے اقدامات کو تسلیم کیا، تاہم ادارے نے پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر مزید عملدرآمد پر زور دیا۔

خیال رہے کہ 36 ممالک پر مشتمل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے منشور کے مطابق کسی ملک کو بلیک لسٹ نہ کرنے کے لیے کم از کم 3 ممالک کی حمایت لازمی ہے۔