مقبوضہ کشمیر: بھارتی تفتیشی ادارے نے حریت رہنما کو گرفتار کرلیا

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

مقبوضہ کشمیر میں صبح اور شام کو مختصر وقت کے لیے دکانیں کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے—فوٹو:رائٹرز
مقبوضہ کشمیر میں صبح اور شام کو مختصر وقت کے لیے دکانیں کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے—فوٹو:رائٹرز

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے حریت رہنما جاوید احمد میر کو سری نگر سے گرفتار کرلیا جبکہ جامع مسجد میں مسلسل گیارھویں ہفتے بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سی بی آئی نے جاوید احمد میر کو گھر میں چھاپے کے دوران گرفتار کیا اور مقبوضہ وادی سے لے کر گئے۔

رپورٹ کے مطابق سی بی آئی نے جاوید احمد میر کو 25 جنوری 1990 کو سری نگر کے مضافات میں ایک حملے میں بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) کے 4 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے ایک جعلی مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘جاوید احمد میر کو آئی اے ایف اہلکار کے قتل میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہیں جموں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے’۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی کی درخواست پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہائی کورٹ نے رواں برس 13 مارچ کو مذکورہ مقدمے کے علاوہ 8 دسمبر 1989 کو اس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے کو منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ فوج 8 ملین افراد پر دہشت کیلئے بیٹھی ہے، وزیراعظم

جاوید میر کے علاوہ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو متعدد جعلی مقدمات میں بھارتی قابض فورسز نے نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں قید کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کو بھارتی اقدامات کے ساتھ ہی پوری سیاسی قیادت کو غیر قانونی طور پر گرفتار یا نظر بند رکھا گیا ہے جس میں سابق وزرا اعلیٰ فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ حریت رہنما بھی شامل ہیں۔

سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کے علاوہ حریت کانفرنس کے ہزاروں کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن میں سیکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف احتجاج

بھارتی جبر کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں افراد نے نماز جعمہ کی ادائیگی کے بعد متعدد علاقوں میں بھارت کے ناجائز قبضے اور خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف احتجاج کیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر، بڈگام، گندر بل، اسلام آباد، پلواما، کلگام، شوپیاں، بندی پورا، بارہ مولا، کپوارا اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں مظاہرین نے بھارت سے آزادی اور پاکستان کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

یہ بھی پڑھیں:سری نگر میں بھارت مخالف احتجاج، سابق وزیراعلیٰ کی بہن، بیٹی گرفتار

بھارتی فوج اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے نافذ کیے گئے کرفیو کو 75 دن مکمل ہوگئے جہاں دو روز قبل موبائل سروس کو محدود پیمانے پر بحال کیا گیا تھا جس کو ایک مرتبہ پھر معطل کردیا گیا ہے۔

قابض فورسز نے مظاہرین کو اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب مارچ کرنے سے روکنے کے لیے سری نگر اور دیگر علاقوں میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں جس کی کال حریت یوتھ لیگ نے دی تھی۔

بھارتی فورسز نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور دیگر مرکزی مساجد میں مسلسل گیارہویں ہفتے بھی جمعے کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں 72 روز بعد موبائل پوسٹ پیڈ سروس بحال، انٹرنیٹ تاحال بند

مقبوضہ وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے، دکانیں اور تجارتی مراکز بھی بند ہیں تاہم صبح اور شام کو مختصر وقت کے لیے کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

تمام اسکول، کالج، جامعات اور دیگر تعلیمی ادارے بھی مسلسل تیسرے مہینے بھی بند ہیں اور والدین خوف کے باعث اپنے بچوں کو قریبی اسکولوں میں بھیجنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔