امریکا کا یورپی یونین کی مصنوعات پر ریکارڈ ٹیرف نافذ

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2019

ای میل

یورپی یونین نے جولائی میں امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف کی دھمکی دی تھی—فائل/فوٹو:اے پی
یورپی یونین نے جولائی میں امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف کی دھمکی دی تھی—فائل/فوٹو:اے پی

امریکا نے یورپی یونین کی دھمکیوں کے باوجود ایئربس سمیت دیگر مصنوعات پر 7 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا ریکارڈ ٹیرف نافذ کر دیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ٹی او کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجاویز کی توثیق کر دی گئی ہے جس سے چین سے تجارتی مخاصمت کے بعد ایک نیا محاذ کھل گیا ہے جو عالمی معیشت کے لیے تباہی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں موجود فرانس کے وزیر معاشی امور برونو لیمایئر نے امریکی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ملک کی جانب سے یہ ایک جارحانہ قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے میں ناکامی پر جوابی ردعمل کو دعوت دینے سے عالمی معیشت مزید سست ہوسکتی ہے۔

فرانسیسی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘عالمی معیشت کو سست کرنے کے علاوہ ٹیرف میں اضافہ اور چین سے جاری تجارتی جنگ کے دوران یورپی یونین سے تجارتی جنگ چھیڑنا ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ہوگا’۔

مزید پڑھیں:ایئر بس تنازع: امریکا کو یورپی یونین کی مصنوعات پر ٹیرف کی اجازت مل گئی

یورپی یونین کی رکن ریاست کے وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے سر پر رکھی ہوئی بندوق کے ساتھ مذاکرات کرنا نہیں چاہتے کیونکہ جب آپ کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے تو آپ کے پاس کوئی موقع نہیں ہوتا سوائے جواب دینے’۔

خیال رہے کہ امریکا نے ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ واشنگٹن میں یورپی یونین کے عہدیداروں سے جاری مذاکرات میں ناکامی کے فوری بعد کیا تھا۔

امریکی فیصلے کی زد میں سب سے زیادہ نقصان برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اسپین کی جانب سے شرع کیے گئے ایئرلائن ایئر بس کو ہوگا جس پر سب سے زیادہ 10 فیصد اضافی ٹیرف ہوگا۔

امریکی ٹیرف میں شامل دیگر مصنوعات میں فرانس میں تیار ہونے والی وائن بھی شامل ہے، امریکا نے فرانس، اسپین اور جرمنی سے درآمد ہونے والی وائن میں 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یورپی یونین تجارت کے معاملے میں امریکا کے ساتھ انصاف نہیں کررہے ہیں لیکن مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈبلیو ٹی او نے 2 اکتوبر کو یورپی مصنوعات پر 7 ارب 50 کروڑ ڈالر کا سالانہ ٹیرف عائد کرنے کی اجازت دی تھی جس کا اب باقاعدہ نفاذ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کی امریکی اشیا پر 39 ارب ڈالر کے اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی

یورپی یونین نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے کسی قسم کے امریکی اقدام سے خبردار کردیا ہے۔

برسلز سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اگر امریکا، ڈبلیو ٹی او کی اجازت سے کوئی اقدام اٹھاتا ہے تو وہ یورپی یونین کو اس موڑ کی طرف دھکیل دے گا جہاں ہمارے پاس اسی طرح کا جواب دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا’۔

اس کیس کا آغاز 2004 میں ہوا تھا جب امریکا نے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اسپین پر الزامات عائد کیے تھے کہ ایئر بس کی کئی مصنوعات میں تعاون کے لیے غیر قانونی سبسڈیز دی گئی ہیں۔

یورپی یونین نے رواں برس جولائی میں امریکی مصنوعات پر 35 ارب یورو کا اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔