پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس نافذ، پی ایم ڈی سی کو تحلیل کردیا گیا

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2019

ای میل

پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) 9 افراد پر مشتمل ہوگی اور کمیشن کا سربراہ صدر کہلائے گا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) 9 افراد پر مشتمل ہوگی اور کمیشن کا سربراہ صدر کہلائے گا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرڈیننس کے نفاذ کے ذریعے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو تحلیل کردیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے نام سے نئے ادارے کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی۔

پی ایم ڈی سی کی جگہ قائم کیے جانے والے ادارہ پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) 9 افراد پر مشتمل ہوگا اور کمیشن کا سربراہ صدر کہلائے گا۔

پی ایم ڈی سی تحلیل کیے جانے سے متعلق نئے آرڈیننس کا نوٹیفکیشن آج (پیر) کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

علاوہ ازیں وزارت برائے قومی صحت (این ایچ ایس) نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے پاکستان میڈیکل کونسل کی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا اور کونسل کے 220 ملازمین کو ہدایت کردی کہ دفتر ایک ہفتے کے لیے بند رہے گا۔

تاہم ڈاکٹروں کی نمائندگی کرنے والے ادارے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے مذکورہ فیصلے کو غیرجمہوری قرار دیا ہے اور سیاسی جماعتوں سے صدارتی آرڈیننس مسترد کرنے کی اپیل کی ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایم ڈی سی کو ڈاکٹروں کے اوقات کار کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

واضح رہے کہ گزشتہ روز چھٹی کا دن ہونے کے باوجود جب ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا کنٹرول سنبھالا تو اس سے وابستہ افراد میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے عمارت کا کنٹرول سنبھالنے کے کچھ گھنٹے بعد وزارت برائے قومی صحت سروسز سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے ’پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019‘ نافذ کیا ہے جس کے نتیجے میں میڈیکل کے شعبے کے قوانین اور کنٹرول کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’نئے آرڈیننس کے تحت میڈیکل کی تعلیم، تربیت اور طب اور دندان سازی میں قابلیت کے اعتراف کے لیے یکساں معیار قائم کیا جائے‘۔

این ایچ ایس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’نئے آرڈیننس پر عملدرآمد کے لیے موجودہ پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرنا ضروری ہے لہٰذا حکومت پاکستان نے گزشتہ روز کونسل کے دفاتر عارضی طور پر بند کرنے کی ہدایت کی، جس سے پی ایم ڈی سی کے اثاثوں اور ضروری ریکارڈ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند رہیں گے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پی ایم سی ایک کارپوریٹ ادارہ ہوگا جو میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ، نیشنل میڈیکل اتھارٹی پر مشتمل ہوگا، نیشنل میڈیکل اتھارٹی کمیشن کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایم ڈی سی کیس: ’پاکستان کو 5 لاکھ عطائی نہیں ڈاکٹر درکار‘

حکومت نے پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس کی منظوری کے تناظر میں پاکستان کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل ڈاکٹروں کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن سے متعلق انتہائی اہم ریکارڈز، اور میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی حفاظت کے لیے فوری ایکشن لیا ہے۔

واضح رہے کہ نیا میڈیکل کمیشن ایک ہفتے کے اندر فعال ہونے کا امکان ہے۔

این ایچ ایس نے بیان میں مزید کہا کہ ’ڈاکٹروں اور دیگر افراد کو مشکلات پیش آنے پر افسوس ہے لیکن حکومت کی ترجیح اور ذمہ داری ہونے کی وجہ سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اصل ریکارڈز اور اثاثوں کا تحفظ ضروری تھا‘۔

اس حوالے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس وقت جاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے داخلوں میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت قومی صحت داخلے کی نگرانی کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات لے گی‘۔

تمام معاملے پر جب پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حفیظ الدین احمد صدیقی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بھی لاعلم تھے کہ وزارت قومی صحت نے عمارت کا کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ ’انہیں کونسل کے ریکارڈ کی رازداری اور حفاظت سے شدید تشویش ہے'۔

پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار نے مزید کہا کہ ’مجھے کونسل کے 220 ملازمین کے مستقبل سے متعلق بھی تشویش ہے، اس ادارے سے ان کا روزگار وابستہ ہے، میری تجویز ہے کہ ملازمین کو برطرف نہ کیا جائے‘۔

علاوہ ازیں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے سابق رکن نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چند روز قبل لاہور میں نجی کالجز کے نمائندگان کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں امریکا کی ایک شخصیت نے بذریعہ اسکائپ شرکت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 'اجلاس کے دوران اصولی فیصلہ کیا گیا تھا کہ جلد ایک نیا آرڈیننس نافذ کیا جائے گا، جس کے باعث پی ایم ڈی سی کی ذمہ داریوں میں کمی آئے گی اور میڈیکل کالجز کو فیسوں میں اضافے کی اجازت دی جائے گی‘۔

سابق رکن نے مزید بتایا کہ ’اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میڈیکل کالجز کو فیکلٹی اراکین کی مخصوص تعداد رکھنے پر مجبور نہیں کیا جائے، کالجوں کو داخلے کا معیار طے کرنے اور اپنی مرضی کی یونیورسٹی منتخب کرنے کی اجازت دی جائے گی‘۔

نیا آرڈیننس وقت کی ضرورت ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا

دوسری جانب جب وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نیا آرڈیننس وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دنیا ترقی کرچکی ہے اور ہم میڈیکل کی تعلیم کے لیے دہائیوں پرانے طریقوں پر عمل کررہے ہیں، ہمیں طبی تعلیم کو آزاد بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دیگر ممالک کے طریقہ کار کو اپنایا جائے گا‘۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حساس ریکارڈ کی حفاظت کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی عمارت کا کنٹرول سنبھالنا ضروری تھا۔

مزید پڑھیں: حکومت نے ماضی کے مقابلے میں 50 فیصد کم آرڈیننس جاری کیے، پی ٹی آئی سینیٹر

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پی ایم سی 9 ارکان پر مشتمل ہوگی اور ایک صدر کی قیادت میں کام کرے گی۔

تاہم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری حکومت کی جانب سے آرڈیننس کا نفاذ ایک غیر جمہوری اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو پارلیمنٹ میں بل پیش کرنا چاہیے تھا تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی رائے دیں، اگر آرڈیننس کا نفاذ ضروری تھا تو حکومت کو پی ایم ڈی سی 1962 آرڈیننس منسوخ کرنا چاہیے تھا کیونکہ نیا آرڈیننس 1962 کے آرڈیننس کی بھی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق کونسل کو طبی ادارے کے منتخب کردہ نمائندگان کے ذریعے قائم کرنا چاہیے‘۔

سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے تمام سیاسی جماعتوں سے آرڈیننس مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ٹی آئی آرڈیننس کا مقصد سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں، عمران خان

خیال رہے کہ رواں برس جنوری کے پہلے ہفتے میں صدر عارف علوی نے پی ایم ڈی سی آرڈیننس 2019 کے عنوان سے ایک آرڈیننس نافذ کیا تھا، جس میں 17 رکنی کونسل کو میڈکل کالجز، ان سے منسلک ہسپتالوں اور ماہرین صحت کے مسائل کا تدارک کرنےکی ہدایت کی گئی تھی۔

بعدازاں کونسل تشکیل دی گئی تھی اور 7 مارچ کو سینیٹ میں بل متعارف کروایا گیا تھا جو قائمہ کمیٹی کو ارسال کیا گیا تھا، آخر کار 26 اگست کو قائمہ کمیٹی نے بل منظور کرلیا تھا۔

تاہم 29 اگست کو پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے پی ایم ڈی سی بل 2019 کو مسترد کرنے کے لیے قرارداد پیش کی تھی، جس کے بعد حکومت نے اسی روز بل واپس لے لیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد نیا بل پیش کیا جائے گا۔


یہ خبر 21 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی