اپوزیشن کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز زیر غور ہے، فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2019

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن نے غیر ملکی میڈیا اداروں کو آزادی مارچ کے حوالے سے بریفنگ دی — فائل فوٹو/ڈان نیوز
مولانا فضل الرحمٰن نے غیر ملکی میڈیا اداروں کو آزادی مارچ کے حوالے سے بریفنگ دی — فائل فوٹو/ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ان کے حکومت مخالف 'آزادی مارچ' کہ تحت متعدد آپشنز زیر غور ہیں جن میں اپوزیشن کے قانون سازوں کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا جانا بھی شامل ہے۔

غیر ملکی میڈیا اداروں کو بریفنگ دیتے ہوئے فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'جمعیت علمائے اسلام (ف) موجودہ حکومتی جماعت کے 126 دن دھرنے کی پیروی نہیں کرے گی اور نہ ہی ایک میدان میں کارکنوں کو تھکائیں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ہم اسلام آباد پہنچتے ہیں تو حکمت عملی اور ہوگی اور اگر روکا جاتا ہے تو حکمت عملی اور ہوگی، یہاں تک کہ جیل بھرو تحریک کی جانب جایا جائے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'ان کی جماعت کسی ریاستی ادارے سے تصادم نہیں کرے گی تاہم نظریاتی اور کردار کی بنیاد پر آئین میں دی گئی حد کے تحت محاذ آرائی کریں گے'۔

مزید پڑھیں: 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں کوئی دھرنا نہیں ہوگا، اپوزیشن

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 'ملکی اداروں کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور کسی ریاستی ادارے کو نامزد حکومت کی پشت پر نہیں آنا چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم اداروں سے جنگ کرنا نہیں چاہتے، اسی لیے کہہ رہے ہیں کہ ادارے اس تاثر کو زائل کریں کہ حکومت کو ان کی پشت پناہی حاصل ہے اور ان سے جو غلطی ہوئی ہے اس کی تلافی کریں'۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 'حکومت ہر سطح پر ناکام ہوچکی ہے اور نئے شفاف انتخابات کے ذریعے ملک کو جمہوری ڈگر پر ڈالنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے'۔

ان کے بقول نئی منتخب حکومت کو نہ صرف عوام کا اعتماد حاصل ہوگا بلکہ عالمی دنیا بھی اسے احترام کی نگاہ سے دیکھے گی اور ملک کو مستقبل میں کامیابی کی طرف لے جایا جاسکے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف مہم کے سلسلے میں 27 اکتوبر کو دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 'آزادی مارچ نہ دھرنا ہے نہ لاک ڈاؤں بلکہ یہ تحریک ہے جو کہ موجودہ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔'

یہ بھی پڑھیں: حکومت پرامن مارچ کی یقین دہانی کرائے پھر مذاکرات ہوں گے، اپوزیشن

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے 31 اکتوبر کو حکومت کے خلاف مارچ میں ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن نے اس سے قبل حکومت سے مذاکرات کرنے کو مسترد کرتے ہوئے ایک ہی مطالبہ کیا کہ مذاکرات اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک وزیر اعظم مستعفی نہ ہوجائیں۔

بعد ازاں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ حکومت نے اگر پرامن مارچ کی اجازت دی تو مذاکرات پر غور کیا جاسکتا ہے۔

آج اسلام آباد میں مقامی رہنماؤں کی آل پارٹیز کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ 27 اکتوبر کو کوئی دھرنا نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالمجید ہزاروی کا کہنا تھا کہ 'ملک کے دیگر حصوں کی طرح 27 اکتوبر کو یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ منایا جائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں نیشنل پریس کلب کے باہر ایک بڑا مظاہرہ کریں گی۔