سیاسی مظاہروں کو عدالتی احکامات کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، لاہور ہائی کورٹ

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2019

ای میل

عدالت کے مطابق سیاسی جماعتوں نے مظاہرہ کرنا ہے اور ایسی سرگرمیوں سے نمٹنا حکومت کا کام ہے — فائل فوٹو: اے پی پی
عدالت کے مطابق سیاسی جماعتوں نے مظاہرہ کرنا ہے اور ایسی سرگرمیوں سے نمٹنا حکومت کا کام ہے — فائل فوٹو: اے پی پی

لاہور ہائی کورٹ نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے خلاف درخواست پر ریمارکس دیئے ہیں کہ سیاسی مظاہرے اور دھرنے جمہوری نظام کا حصہ ہیں اور ایسی سرگرمیوں پر عدالتی احکامات کے ذریعے قابو نہیں پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے نجی فورس (انصار الاسلام) کے قیام اور اعلان کردہ ’آزادی مارچ‘ کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس محمد امیر بھٹی نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتوں نے مظاہرہ کرنا ہے اور ایسی سرگرمیوں سے نمٹنا حکومت کا کام ہے۔

دوران سماعت جج نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت عدالت حکومت کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ لوگوں کو دھرنے یا احتجاج میں شرکت سے روکے۔

جس پر درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ ندیم سرور نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کا مقصد منتخب حکومت کو برطرف کرنا ہے جو ایک غیرآئینی اقدام ہے۔

ماضی میں کئی ماہ طویل تک ہونے والے احتجاجوں کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس محمد امیر بھٹی نے ریمارکس دیئے کہ ’حکوتیں لانگ مارچ یا سیاسی نعرے بازی سے برطرف نہیں ہوتیں‘۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی ہدایت

دوران سماعت جسٹس محمد امیر بھٹی نے وکیل سے استفسار کیا کہ ‘کیا ماضی میں عدالتوں نے کسی دھرنے کو روکا ہے؟‘ اور باور کروایا کہ عدالت کوئی ناقابل حکم جاری نہیں کرے گی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل اسرار الٰہی نے درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ حکومت قانون کے مطابق مظاہرین سے نمٹے گی۔

بعدازاں جسٹس محمد امیر بھٹی نے لا افسر کو حکومت سے معلومات لانے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ ایک شہری کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ کسی نجی تنظیم کو مسلح تنظیم رکھنے کی اجازت نہیں کیونکہ یہ پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشن ایکٹ 1974 کے تحت ایک جرم ہے۔

اس میں مزید کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن سیاسی مقاصد کے لیے حکومت کے خلاف مذہبی مدارس کے معصوم بچوں کو استعمال کررہے ہیں اور ان کی جماعت جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کے خلاف تقریروں کے ذریعے منافرت پھیلا رہی ہے جس سے ملک میں انشار پھیل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی ہدایت

درخواست میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دھرنے کا اعلان شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اس میں عدالت سے جمیعت علمائے اسلام (ف) کی نجی مسلح فورس کے قیام کو غیر قانونی قرار دینے اور وفاقی حکومت کو قانون کے تحت سیاسی جماعت اور اس کے سربراہ کے خلاف سخت کارروائی کی استدعا کی گئی۔

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27 اکتوبر کو حکومت کے خلاف اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف حکومت کی جانب سے یوم سیاہ منائے جانے کے پیش نظر انہوں نے تاریخ کو تبدیل کرتے ہوئے 31 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ’ہم ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اگر حکومت نے ’آزادی مارچ‘ میں تشدد کا راستہ اختیار کیا، آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں بدلہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے کہا تھا کہ استعفے سے پہلے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل جے یو آئی (ف) کی فورس 'انصار الاسلام' کے دستے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن محافظ دستے سے سلامی لیتے نظر آئے تھے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے بھی جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

علاوہ ازیں وزارت داخلہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس 'انصار الاسلام' کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا اور کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری بھی لی تھی۔