کراچی: اسٹیٹ لائف کے سینیئر عہدیدار کی عمارت سے چھلانگ لگا کر 'خودکشی'

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2019

ای میل

ذرائع کے مطابق ظفر اقبال دفتر میں نجی سرگرمیوں پر انکوائری کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے — فائل فوٹو/ڈان
ذرائع کے مطابق ظفر اقبال دفتر میں نجی سرگرمیوں پر انکوائری کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے — فائل فوٹو/ڈان

نجی سرگرمیوں کی وجہ سے انکوائری کا سامنا کرنے والے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان (ایس ایل آئی سی) کے سینیئر عہدیدار نے کراچی کی آئی آئی چندریگر روڈ پر قائم عمارت کی 11ویں منزل سے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔

پولیس ذرائع کے مطابق 55 سالہ ظفر اقبال آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اسٹیٹ لائف انشورنس بلڈنگ نمبر 2 میں ڈپٹی مینیجر ایڈمنسٹریشن کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

ان کے اہلخانہ نے خودکشی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پروفیسر کی خودکشی کا معاملہ: 'طالبہ نے ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا'

تاہم سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) مقدس حیدر نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہد کے مطابق ظفر اقبال نے خودکشی ہی کی ہے۔

سینئر پولیس افسر نے کہا کہ 4 بچوں کے والد ظفر اقبال کے خودکشی کے حوالے سے پولیس کے موقف کو ان کے اہلخانہ کی جانب سے مسترد کیے جانے کی وجہ سے واقعے پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ایس ایس پی مقدس حیدر کے مطابق اسٹیٹ لائف کے دفتر میں تعینات گارڈ نے ظفر اقبال کو خودکشی کرنے سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بلڈ پریشر کی بعض ادویات کھانے والوں میں خودکشی کا رجحان پیدا ہونے کا انکشاف

میٹھادر تھانے کے ایس ایچ او رضوان پٹیل کا کہنا ہے کہ وہ ظفر اقبال کی موت کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے ڈاکٹروں کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ظفر اقبال کی لاش کو کراچی کے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ظفر اقبال کے خلاف اسٹیٹ لائف اتھارٹیز کی جانب سے دفتر میں ان کے نجی اقدامات پر انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔