’میں استعفیٰ نہیں دوں گا‘، اتنی جلدی ردِعمل کون دیتا ہے بھلا؟

26 اکتوبر 2019

ای میل

جی ہاں آپ نے ٹھیک سُنا ہے۔ وزیرِاعظم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ لیکن شاید اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر اس نوعیت کا ردِعمل دینے میں انہوں نے کچھ زیادہ ہی جلدبازی سے کام لے لیا ہے۔

وہ خواتین و حضرات جو ماضی میں اپوزیشن کی للکاروں پر گہری نظر رکھتے آئے ہیں وہ ضرور سوچ رہے ہیں ہوں گے کہ اس قسم کے ارادوں کے عزم کو کلائمکس تک کے لیے بچا کر رکھا جاتا ہے۔ ایک ایسے وقت کے لیے جب اقتدار کے منصب پر بیٹھے شخص کو واضح خطرہ نظر آنے لگتا ہے اور حکومت کے پاس زیادہ آپشنز ہی نہیں بچتے۔

جب پُرجوش حکومت مخالفین سڑکوں پر احتجاج کے دوران اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے ہیں تب روایتی طور پر وزیرِاعظم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان تمام سرگرمیوں سے خود کو الگ تھلگ رکھیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کریں کہ جیسے مخالفین وجود ہی نہیں رکھتے۔ ایک ایسا وقت جب حکومت اپنے مختلف اہم کھلاڑیوں کو میدان میں اتارتی ہے اور ان کی قیادت اکثر و بیشتر وزیرِاطلاعات کو کرنا ہوتی ہے۔

عموماً صورتحال میں شدت بتدریج بڑھتی ہے اور حالات کشیدگی کے نکتہءِ عروج تک پہنچنے سے قبل کیچڑ اچھالنے کا ایک طویل سلسلہ چلتا ہے۔ کارکن کی سطح پر موجود افراد کو سب سے پہلے بدترین زبانی جنگوں میں حصہ لینا ہوتا ہے اور مظاہرین اور ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرنے والوں کے درمیان جھگڑے ہونا ہوتے ہیں۔ پھر ایک عرصے بعد سربراہِ حکومت بالکونی میں کھڑے یہ اعلان کرتے پائے جاتے ہیں کہ مجھ پر دھاوا بولا گیا مگر میں ثابت قدم رہا۔

اس درمیانی وقت میں عمومی طور پر دونوں طرف تجاویز کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ کچھ مشیران حکومت کو ثابت قدم رہنے کے لیے کہتے ہیں جبکہ چند صلاح کار اپوزیشن سے دباؤ یا پھر پیچھے ہٹ جانے کے لیے کہتے ہیں، اور یہ دونوں تجاویز نظام بچانے کے نام پر دی جاتی ہیں۔

وزیرِاعظم نے اس پورے سلسلے کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسا کرتے ہوئے انہوں نے خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا ہے جسے ایسے اقدامات اٹھانا پسند ہیں جن سے روایت شکنی ہوتی ہے۔

وہ اپنے اس سنجیدہ لہجے کو اپناتے ہوئے خود کو ایک ایسا شخص ظاہر کرسکتے تھے جو 2018ء کے عام انتخابات کے فوراً بعد اپوزیشن کے سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔ مگر انہوں نے روایت توڑی اور بڑی خوشی سے اپنے مخالفین کو ڈانٹ پلائی اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

تاہم اب محترم عمران خان بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مذاکراتی ٹیم کو اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کے حل کرنے کی کوئی راہ نکالنے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں اور چونکہ اپوزیشن ابھی بھی ایک صف میں کھڑی نظر نہیں آتی اس لیے یہ کام مزید پیچیدہ بن گیا ہے۔ حکومت مخالف جماعتیں ابھی تک ان مطالبات پر ہم آہنگ ہی نہیں ہوپائی ہیں جنہیں وہ انفرادی سطح پر حکومت سے منوانا چاہتی ہیں۔

حکومت اپوزیشن پر زور دے گی کہ وہ وزیرِاعظم کے استعفیٰ کو چھوڑ کر دیگر مطالبات کی فہرست ان کے سامنے رکھے۔ موجودہ حالات میں ایسی کسی تجویز کی زیادہ امید نہیں کی جاسکتی ہاں البتہ کوئی معجزہ رونما ہوجائے تو اور بات ہے، ورنہ ہم لڑائی جھگڑے والی سیاست کے ابتدائی مرحلے سے بھرپور جاڑے میں داخل ہوسکتے ہیں بھلے ہی پھر اچانک سے وزیرِاعظم جلدی سے سارا معاملہ سمیٹنے پر زور دیتے ہوں۔

اپوزیشن کی مہم کس نوعیت اور طریقہ کار کی حامل ہوگی؟ اسے جان بوجھ کر مبہم رکھا جا رہا ہے۔ اس طرح کمزور اتحاد کے اندر موجود مختلف رائے واضح ہوجاتی ہے۔ چند ایسے بھی بنیادی مسائل ہیں جن پر سرسری گفتگو کرنے کے بعد حل کیے بغیر جوں کا توں چھوڑ دیا گیا ہے۔

ایک اہم ترین سوال جو خوف اور خدشات کو بڑھا رہا ہے کہ اسلام آباد کا اشارہ ملنے پر مولانا فضل الرحمٰن کے زیرِ قیادت ہجوم پر مذہبی جذبات غالب آسکتے ہیں۔ اگرچہ مولانا نے مخصوص انداز میں آئین کی پاسداری کا وعدہ کیا ہے، تاہم ان کی یہ یقین دہانی کہ آزادی مارچ میں حصہ لینے والوں کے مطالبات آئینی حدود سے تجاوز نہیں کریں گے، ان کی تنظیم سے متعلق ایک عرصے سے بنی ساکھ بدل نہیں سکتی۔

مولانا کے کیمپ میں پرانے ترقی پسند، یعنی پیپلزپارٹی اور نئی نویلی اسٹیبلشمنٹ مخالف مزاحمتی فورس پاکستان مسلم لیگ (ن) شامل تو ہیں تاہم جو شخص اور پارٹی اس مہم کی قیادت کر رہی ہے ان دونوں کے حوالے سے اعتراضات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ترقی پسندی کا مفہوم اس ملک میں جو بھی نکالا جاتا ہو، لیکن اس ملک کے ترقی پسندوں کو تاریخ کے اس اہم موڑ پر مولانا کی صفوں میں کھڑے ہونے کے نقصاندہ اثرات کی سختی سے یاد دہانی کروائی جا رہی ہے۔

مولانا کو ایک ایسے رجعت پذیر ذہنیت کے طور پر دکھانے کی کوشش کی جا رہی جو ملک کو آگے لیجانے اور یکساں منصفانہ نظام لانے کے لیے کی جانے والی قانون سازی میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جس فورس کو وہ دارالحکومت کی زمین پر اتارنے جا رہے ہیں اس کی متوقع شکل و صورت پر بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں اس وقت زبردست تقسیم پائی جاتی ہے لیکن حکومت مخالف مہم میں دیگر جماعتیں اپنے جتنے بھی لوگ دارالحکومت لے آئیں، مگر ان کے مقابلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنوں کا پلڑا بھاری ہی تصور کیا جارہا ہے۔

ایک ایسا اتحاد جس میں موجود جماعتوں کا ایک دوسرے سے محتاط رہنے کی وجوہات بھی ہیں، اس کے بارے میں ابھی بھی بہت کچھ واضح کیا جانا باقی ہے۔ درحقیقت انہیں تو قسمت نے ہی ایک مشترکہ دشمن کو باہر کرنے کے لیے یکجا کیا ہے۔

ظاہر ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اس راستے پر چلنے کے لیے اپنی اپنی وجوہات ہیں اور وزیرِاعظم کو عہدے سے ہٹانے کے علاوہ ابھی تک بہت سی باتوں کی وضاحت نہ کرنے کے اپنے اپنے اسباب بھی ہیں۔

حتیٰ کہ حالیہ دنوں میں نئے انتخابات کے لیے لگائے جانے والا نعرہ بھی اس کمزور اتحاد کو ایک ٹھوس وجود میں نہیں بدل سکا ہے۔ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) نئے انتخابات سے متعلق اپنے مطالبات پر زیادہ زور دے رہی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی مرکز میں بطور اپوزیشن جماعت اور سندھ میں حکمراں جماعت کے اپنے کردار کا توازن برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) والوں کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے اور اس جماعت سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ مزید پُرخطر کھیل کھیلے، بالکل مولانا کی طرح جو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ رواں ماہ لاڑکانہ میں ہونے والی شکست کا جائزہ لے تاکہ اس جماعت کو اندازہ ہوسکے کہ اگر مستقبل قریب میں انتخابات ہوئے تو انہیں کن مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اب جبکہ اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کرنے کی مقررہ تاریخ میں بس چند دن ہی رہ گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن کے مطالبات میں کوئی ایک بھی مطالبہ ایسا نہیں نظر آتا جس میں قبل از وقت انتخابات اور وزیرِاعظم کے استعفیٰ کا ذکر نہ ہو۔ اور یوں اس طرح اپوزیشن کے مقصد کو تقویت ملتی ہے۔ درحقیقت ابتدا سے ہی یہ خیال کیا گیا تھا کہ مختلف جماعتوں کے حامیوں کو درالحکومت میں یکجا کیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ حالات کس جانب جاتے ہیں۔

یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں اپوزیشن اپنے یک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ ناکامی بالکل بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیرِاعظم کی جانب سے مارچ کی کہانی کو جس طرح مختصر کرنے پر زور ڈالا گیا ہے اس سے شاید کسی قسم کے فوری نتائج حاصل نہ ہوسکیں۔ لڑائی میں سنسنی کے طلب گاروں کو آنے والے دنوں میں شاید ان کے مطلب کی خبریں مل جائیں۔


یہ مضمون 25 اکتوبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔