وائس چانسلرز جامعات میں سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر نظرِ ثانی کریں، قائمہ کمیٹی

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2019

ای میل

کمیٹی اجلاس بلوچستان یونیورسٹی کے عملے کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیا گیا تھا—تصویر: فیس بک
کمیٹی اجلاس بلوچستان یونیورسٹی کے عملے کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیا گیا تھا—تصویر: فیس بک

اسلام آباد: قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی کیمپسز میں سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی سازگار نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے خوف کی عمومی فضا قائم ہوئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو کیمپسز میں سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے‘۔

بالخصوص جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر کو ہدایت کی گئی کہ کیمپس میں سیکیورٹی فورسز کی ازسر نو تعیناتی اور انہیں صرف داخلی اور خارجی راستوں تک محدود کرنے کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جیز) سے ملاقات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایت، چیف جسٹس کا از خود نوٹس

خیال رہے کہ قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلوچستان یونیورسٹی کے عملے کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو یونیورسٹی میں سیکیورٹی کیمروں کی ضرورت کا بھی از سر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اضافی سی سی ٹی وی کیمرے جن کا کوئی فائدہ نہیں، انہیں ہٹادیا جائے اور سیکیورٹی کیمروں کو طلبہ کی رضامندی سے لگانے چاہیے‘۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بلوچستان یونیورسٹی میں سیکیورٹی کے مقصد سے لگائے گئے کیمروں کے ذریعے یونیورسٹی عملے کی جانب سے طالبات کو جنسی ہراساں کرنے اور ان سے رقم حاصل کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: طلبہ ہراسانی کیس: صوبائی اسمبلی کی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کردیا

مذکورہ واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا اور اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں دھرنا بھی دیا گیا تھا۔

اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جب تک وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے اس وقت تک کے لیے وائس چانسلر جاوید اقبال اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

تاہم جاوید اقبال نے طلبہ ہراسانی میں ملوث ہونے کی تردید کی لیکن اراکین نے طلبہ کے حقوق کی خلاف ورزی پر بحیثیت تعلیمی ادارے کے سربراہ انہیں ذمہ دار ٹھہرایا۔

اجلاس میں موجود طلبہ نے بتایا کہ جامعہ کسی تعلیمی ادارے کے بجائے جیل محسوس ہوتی ہے، ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ روزانہ 50 گاڑیاں یونیورسٹی کا گشت کرتی ہیں اور ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم قیدی ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں: طالبات ہراسانی کیس: بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر عہدے سے دستبردار

اس ضمن میں قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر محمد انور کا کہنا تھا کہ جامعہ میں سیکیورٹی انتہائی سخت ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی اور ان کے اہِلِ خانہ کی حفاظت پر مامور ہیں۔

جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق جلد جامعہ بلوچستان میں اجلاس کرے گی تاکہ اس معاملے کو بہتر طور پر دیکھا جاسکے۔