سافٹ ڈرنکس کے استعمال کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

29 اکتوبر 2019

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

چینی سے تیار ہونے والی تیزابی مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس موٹاپے اور دانتوں کے ٹوٹنے کی عام وجہ ثابت ہوتے ہیں۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

کنگز کالج لندن کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد میں دانتوں کے ٹوٹنے کا مسئلہ بہت زیادہ عام ہوتا ہے اور سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال دانتوں کی فرسودگی اور مسوڑوں کے امراض کا باعث بھی بنتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران امریکا کے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزمیشن سروے 2003-04 کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جس میں ساڑھے 3 ہزار افراد کے نمونے جمع کیے گئے تھے۔

تحقیق کے لیے محققین نے جسمانی وزن، میٹھے مشروبات کے استعمال اور دانتوں کے ٹوٹنے کے واقعات کو بھی دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تیزابیت کے باعث کاربونیٹڈ مشروبات اور فروٹ جوسز دانتوں کے ٹوٹنے کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ موٹاپے کے شکار افراد کے لیے اہم پیغام ہے کہ یہ مشروبات ان کے جسم کے ساتھ ساتھ دانتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس کا استعمال کم کرکے دانتوں کے اس مسئلے سے بچنا ممکن ہے۔

محققین کے مطابق یہ ڈینٹسٹ کے لیے بھی اہم ہے کہ وہ اپنے موٹاپے کے شکار مریضوں کو اس سے آگاہ کریں اور یہ بتائیں کہ یہ مشروبات دانتوں کے ساتھ جسم پر کیا اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کلینکل اورل انویسٹی گیشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں ماہ ہی ایک اور برطانوی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ میٹھے مشروبات یا سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال موٹاپے کا شکار بناسکتا ہے۔

ابرڈین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹھے مشروبات کا استعمال کے بارے میں پہلے ہی سوچا جاتا تھا کہ وہ موٹاپے کا باعث بننے والے عناصر میں سے ایک ہے اور اس حوالے سے دیکھا گیا کہ ٹھوس یا سیال شکل میں چینی جسمانی وزن پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس سلسلے میں محققین نے چوہوں کے 2 گروپس بناکر انہیں 8 ہفتے تک ٹھوس غذا یا مشروب کی شکل میں چینی کا استعمال کرایا گیا اور یہ ایڈڈ شوگر غذائی کیلوریز کے 73 فیصد حصے پر مشتمل تھی۔

محققین نے ان چوہوں کے جسمانی وزن، جسمانی چربی، کیلوریز کی مقدار اور توانائی کے لیے اس کے استعمال کو مانیٹر کیا جبکہ ان کے گلوکوز اور انسولین ردعمل کو بھی دیکھا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھے مشروبات کا استعمال جن جانوروں کو کرایا گیا، ان کا جسمانی وزن اور چربی میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ ٹھوس شکل میں میٹھا کھانے والے چوہے پتلے اور میٹابولک اعتبار سے اپنے ساتھیوں سے زیادہ صحت مند ثابت ہوئے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ میٹھے مشروبات کے استعمال سے چوہوں میں گلوکوز کی برداشت کم ہوئی جبکہ انسولین کی مزاحمت بڑھ گئی اور یہ دونوں ذیابیطس کے خطرے کی نشاندہی کرنے والے عناصر ہیں۔

تاہم محققین کے مطابق یہ زیادہ چینی کے استعمال کا براہ راست نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ جسمانی چربی میں اضافہ تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ میٹھے مشروبات موٹاپے کی وجہ ثابت ہوسکتے ہیں۔