'فائیو جی کیلئے ٹاورز شیئرنگ کا ماڈل اپنانا ضروری ہے'

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2019

ای میل

35 ہزار ٹاورز میں سے 40 فیصد صرف 300 میٹر کے فاصلے پر نصب ہیں —فائل فوٹو: ڈان نیوز
35 ہزار ٹاورز میں سے 40 فیصد صرف 300 میٹر کے فاصلے پر نصب ہیں —فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: ایڈوکو گروپ کے اسٹریٹجی ڈائریکٹر گیان کورالج نے کہا ہے کہ ٹیلی کام کی بڑھتی ہوئی طلب اور مواصلاتی نظام میں باہمی تعاون کے فقدان کی وجہ سے پاکستان 'ڈیجیٹائزیشن کی دوڑ' میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 4 ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس کم از کم 34 ہزار ٹاورز ہیں تاہم 4 جی اور 5 جی کی آمد کے ساتھ 2022 تک ٹاور کی تعداد میں گئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔

مزیدپڑھیں: پاکستان میں فائیوجی سروس کیلئے 4 سے 5 سال درکار ہیں، پی ٹی اے

انہوں نے بتایا کہا صارفین کو ٹیلی کام کی بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے مزید 17 ہزار ٹاور لگانے کی ضرورت پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ 35 ہزار ٹاورز میں سے 40 فیصد صرف 300 میٹر کے فاصلے پر نصب ہیں جس کے نتیجے میں صنعت کے لیے ایک ارب ڈالر کے سرمایے کا ضیاع ہوا کیونکہ ٹاورز کو کمپنیاں شیئر بھی کرسکتی تھیں۔

ایڈوکو گروپ کے اسٹریٹجی ڈائریکٹر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی شرح 74 فیصد ہے جو نصف آبادی کو ظاہر کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 سے 2022 کے درمیانی عرصے میں ڈیٹا کی کھپت 7 گنا بڑھ جانے کی پیش گوئی ہے جس کے نتیجے میں ٹاور کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کریڈٹ کارڈ کے سائز کا 4 جی موبائل فون

انہوں نے کہا کہ 5 جی کے دور میں کامیاب ہونے کے لیے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو باہمی تعاون کا رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

گیان کورالج نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز کو موبائل ٹاورز کا مشترکہ نیٹ ورک فراہم کرنے کی پیش کش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک میں صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے موبائل آپریٹرز مشترکہ نیٹ ورک کے ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ نیٹ ورک کے ماڈل سے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی جو مختلف کمپنیاں اپنے ٹاور لگانے میں خرچ کررہی ہیں۔

ان کہنا تھا کہ موبائل ٹاور لگانے کے لیے کمپنی نے پہلے ہی 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 جی اور 4 جی پر منتقل ہونے کے لیے سائٹ اور ان کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: 5 جی سروسز باقاعدہ طور پر چین میں متعارف

علاوہ ازیں گیان کورالج نے بتایا کہ اگر کمپنیاں ٹاور شیئرنگ کے ماڈل کو قابل غور نہیں سمجھتیں تو نتیجے میں ٹاورز کی بھرمار ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے 'ڈیجیٹل پاکستان' ایجنڈے کو پورا کرنے اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ٹاور شیئرنگ ضروری ہے۔

ایڈیٹکو کے عہدیدار نے مزید کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کی دوڑ میں پاکستان اب بھی پیچھے ہے کیونکہ دوسرے ممالک نے گزشتہ 5 برس میں شعبہ ٹیلی کام میں مضبوط ترقی کی۔

انہوں نے بتایا کہا کہ 2018 میں ہی ملائیشیا میں 4 جی استعمال کرنے والوں کی شرح 55 فیصد تھی جبکہ پاکستان میں 4 جی کی کوریج پاکستان میں 50 فیصد سے تجاوز نہیں کرسکی۔


یہ خبر 3 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی