ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کے اجرا میں تیزی

اپ ڈیٹ 04 نومبر 2019

ای میل

فارمولے کے تحت وزارتوں، محکموں اور دیگر اداروں کو پہلی اور دوسری سہ ماہی میں مختص فنڈز کا 20، 20 فیصد خرچ کرنا ہے—تصویر: شٹر اسٹاک
فارمولے کے تحت وزارتوں، محکموں اور دیگر اداروں کو پہلی اور دوسری سہ ماہی میں مختص فنڈز کا 20، 20 فیصد خرچ کرنا ہے—تصویر: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: پلاننگ کمیشن نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کے عمل کو تیز کردیا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے عرصے میں 2 کھرب 57 ارب 17 کروڑ روپے جاری کیے گئے جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران جاری کیے گئے ایک کھرب 60 کروڑ روپے سے 144 فیصد زائد ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں ان کی جانب سے یکم نومبر تک 2 کھرب 57 ارب 17 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے جو پورے مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 7 کھرب 10 کروڑ کا 37 فیصد ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران پلاننگ کمیشن نے مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 6 کھرب 75 ارب روپے کا 15.6 فیصد یعنی ایک کھرب 5 ارب 46 کروڑ روپے جاری کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کے اجرا میں خاطر خواہ اضافہ

فنڈز کے اجرا میں تیزی عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ترقیاتی فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی تجویز پر عمل میں آئی تاکہ رواں مالی سال کے لیے 2.4 فیصد کی شرح نمو کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

ان فنڈز کے انتظامی فارمولے کے تحت وزارتوں، محکموں اور دیگر اداروں کو رواں مالی سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں مختص شدہ ترقیاتی فنڈز کا 20، 20 فیصد حصہ خرچ کرنا ہے جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں خرچ کیے جانے والے ترقیاتی فنڈز کی شرح 30، 30 فیصد رہے گی۔

تاہم تنخواہوں، پینشنز کی صورت میں فنڈز کا اجراہ ہر سہ ماہی میں 25 فیصد کے حساب سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت پہلے 4 ماہ میں فنڈز کا اجرا مقررہ ہدف یعنی 40 فیصد کے قریب (تقریباً) 37 فیصد تک پہنچا۔

مزید پڑھیں: ایکنک اجلاس: ایک کھرب 19 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

تاہم پہلے 4 ماہ میں جاری کیے گئے فنڈز کا 60 فیصد حصہ 4 عناصر کے لیے مختص رہا، جس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 80 ارب روپے دیے گئے جو زیادہ تر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر خرچ ہوئے، یہ رقم اس مقصد کے لیے مالی بجٹ میں مختص ایک کھرب 55 ارب روپے کا 52 فیصد ہے۔

فنڈز کا دوسرا بڑا حصہ 26 ارب 78 کروڑ روپے سیکیورٹی کی بہتری پر خرچ کیے گئے، جس کے لیے مختص شدہ مجموعی رقم 32 ارب روپے تھی۔

یعنی رواں مالی سال کے بجٹ میں سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا 82 فیصد حصہ جاری کیا جاچکا ہے۔

علاوہ ازیں 12 ارب 80 کروڑ روپے کا تیسرا بڑا حصہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے جاری کیا گیا جس کے لیے رواں مالی سال مجموعی طور پر 72 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، حیدرآباد کے ترقیاتی فنڈز براہِ راست شہری حکومتوں کو دینے کا مطالبہ

دوسری جانب پلاننگ کمیشن نے بتایا کہ اسپیشل ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے کوئی فنڈز دستیاب نہیں جس کے لیے رواں مالی سال میں 32 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔