چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

اپ ڈیٹ 04 نومبر 2019

ای میل

مریم نواز چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
مریم نواز چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کرلی اور رہائی کا حکم دے دیا۔

عدالت عالیہ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مذکورہ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور درخواست گزار کے وکیل دونوں کے دلائل کے بعد 31 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسے آج عدالت نے سناتے ہوئے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے انہیں ایک ایک کروڑ کے 2 مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

ساتھ ہی عدالت نے مریم نواز کو اضافی 7 کروڑ روپے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل جمع کروانے کا کہتے ہوئے انہیں اپنا پاسپورٹ بھی جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا۔

مزید پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت مریم نواز کی ضمانت دیتے ہوئے عدالت کے تحریری حکم کے مطابق 'چونکہ استغاثہ نے درخواست گزار کی ایک بینک اسٹیٹ منٹ دکھائی، جس میں 28 نومبر 2011 کو 7 کروڑ روپے نکالے گئے اور استغاثہ کو درخواست گزار کے فرار ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا ہم عدالتی ضمنیر کو مطمئن کرنے کے لیے ایک مشروط حکم جاری کریں گے'۔

عدالت کی جانب سے مریم نواز کی ضمانت منظور ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے جشن منایا۔

بعدازاں عدالت کی جانب سے مریم نواز کی درخواست ضمانت پر 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ نیب کی جانب سے مریم نواز کے فرار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

مذکورہ فیصلے میں کہا کہ مریم نواز نہ تو کبھی مفرور ہوئی ہیں اور نہ انہوں نے قانون کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی ہے، یہ سچ ہے کہ معاشرے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پھیلی ہوئی ہے، اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ گرفتاری کو سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور عدالت ثبوتوں کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مریم نواز کے اکاؤنٹ سے نکلوائے گئے 7 کروڑ روپے کے الزام میں استغاثہ کے موقف کو تقویت نہیں ملتی، مریم نواز کے اکاؤنٹ سے 7 کروڑ روپے نکلوانے کا معاملہ مزید چھان بین کا متقاضی ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی جرم ہوچکا ہے، اس ایکٹ کی یہ دفعہ نیب آرڈیننس کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے۔

فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹ 2 متوازی قوانین کے اطلاق کے بارے میں فیصلہ کرے گی، پروسکیوشن کا مدعا نہیں تھا کہ یہ رقم غیر قانونی طور پر آئی جبکہ استغاثہ کی جانب سے نصیر عبداللہ لوتھا کا پیش کیا گیا بیان وزارت خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو قلمبند کروائے گئے نصیر عبداللہ لوتھا کے بیان کے دوران ملزم کا موقف نہیں جانا گیا جبکہ چوہدری شوگر ملز میں دیگر غیر ملکیوں کے بیانات تاحال ریکارڈ نہیں کیے گئے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے 30 ستمبر کو عدالت سے رجوع کیا تھا۔

تاہم گزشتہ ماہ کے اواخر میں ان کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کی اچانک ناسازی کے بعد انہوں نے بنیادی حقوق اور انسانی بنیادوں پر ضمانت کے لیے 24 اکتوبر کو ایک متفرق درخواست دائر کی تھی۔

اس درخواست پر عدالت میں متعدد سماعتیں ہوئی تھیں، تاہم گزشتہ سماعت میں نیب کے وکیل جہانزیب بھروانا نے انسانی بنیادوں پر مریم نواز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ 'سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ واضح ہے کہ ملزمہ کو صرف انتہائی غیرمعمولی حالات میں ضمانت مل سکتی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'مریم نواز کا کیس غیرمعمولی حالات پر پورا نہیں اترتا'۔

یاد رہے کہ 29 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ 26 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے شہباز شریف کی جانب سے دائر کی گئی متفرق درخواست پر نواز شریف کی منگل تک طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید بامشقت اور ڈیڑھ ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد سے وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔

بعد ازاں 30 اکتوبر کو لاہور کی سیشن عدالت نے پاکستانی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور دھمکیاں دینے کے کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست ضمانت 2 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔

مریم نواز کی گرفتاری

خیال رہے کہ احتساب کے قومی ادارے نے 8 اگست کو چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو گرفتار کیا تھا۔

بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے نیب کے حوالے کردیا گیا تھا، مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع بھی کی گئی تھی۔

تاہم 25 ستمبر کو لاہور کی احتساب عدالت نے ان دونوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس: خاتون ہونے کی بنیاد پر مریم نواز کی ضمانت ہونی چاہیے، وکیل

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ ایک اور کرپشن کیس ایون فیلڈ میں بھی اسلام آباد کی احتساب عدالت نے مریم نواز کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کردیا تھا۔

شہباز شریف کا اظہار تشکر

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مریم نواز کی ضمانت پر اظہار تشکر کیا۔

ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ بیٹی مریم نواز کی ضمانت سے قائد محمد نواز شریف کی تیمارداری کے تقاضے بہترین انداز سے پورے ہوسکیں گے۔

انہوں نے اپنے بھائی نواز شریف کی صحت کے لیے دعا کرتے ہوئے عوام، کارکنان، دوست اور احباب سے بھی اپیل کی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کے لیے خصوصی دعا کریں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی کمی کی تشخیص از حد ضروری ہے۔

چوہدری شوگر ملز کیس

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں ملک میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

نیب کو اس کیس میں چوہدری شوگر ملز کی مرکزی شراکت دار کی حیثیت سے بڑی رقم کی سرمایہ کاری کے ذریعے منی لانڈرنگ میں مریم نواز کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

مریم نواز پر الزام ہےکہ وہ 93-1992 کے دوران کچھ غیر ملکیوں کی مدد سے منی لانڈرنگ میں ملوث رہی اور اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے۔

اس کیس میں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

جس پر 31 جولائی 2019 کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر مریم نواز پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

اس کیس میں یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے گئے تاہم سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں، اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

تاہم 8 اگست کو مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپسی پر جیل کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔