ایف بی آر اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام کی تنظیم نو کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2019

ای میل

ایف بی آر اور صوبائی حکام کے اختیارات کے باعث اکٹھا ہونے والے ٹیکس کی مجموعی مالیت کا اندازہ نہیں ہوتا—فائل فوٹو: اے پی پی
ایف بی آر اور صوبائی حکام کے اختیارات کے باعث اکٹھا ہونے والے ٹیکس کی مجموعی مالیت کا اندازہ نہیں ہوتا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: حکومت نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے مکمل نظام کی تنظیم نو کرنے اور اشیا و خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) اکٹھا کرنے کے لیے مرکزی ٹیکس کلیکشن نظام متعارف کروانے کا غیر معمولی فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ اقدامات 3 اکتوبر کو وزیراعظم عمران خان منظور کرچکے ہیں جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جون 2020 تک پاکستان ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔

تاہم مجوزہ ٹائم لائن وہ نہیں جس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی کیونکہ اِن لینڈ ریونیو سروسز (آئی آر ایس) کے چیف کمشنر نے اجلاس میں ہی اس اقدام کی مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوا تو نیا ادارہ بنادیں گے، وزیراعظم

اجلاس سے وابستہ ایک ذرائع نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئی آر ایس افسران چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ایک اور اجلاس کریں گے جس میں انہیں تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب آئی آر ایس کے ساتھ کسٹم حکام نے بھی مجوزہ منصوبے میں تبدیلی کرنے پر کام چھوڑ ہڑتال کرنے کی دھمکی دے دی۔

ڈان کے پاس دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ پی آر اے اور اس کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کرنے کے مرکزی نظام کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دے گی، مذکورہ اصلاحات عالمی بینک کی فنڈنگ سے شروع کیے گئے ’پاکستان ریسز ریونیو پروجیکٹ‘ کا حصہ ہیں۔

اس سلسلے میں جی ایس ٹی اکٹھا کرنے کے مرکزی نظام کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گا، جس میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے نمائندے شریک ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر ٹیکس اصلاحات کے نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن گیا

علاوہ ازیں وزارت خزانہ ہی صوبائی سروسز پر اکٹھا کیے گئے جی ایس ٹی کی منتقلی کے لیے طریقہ کار تشکیل دینے کے لیے کام کرے گی۔

مرکزی سطح پر جی ایس ٹی اکٹھا کرنے کا فیصلہ اس درخواست پر کیا گیا کہ ایف بی آر اور صوبائی حکام کے اختیارات کے باعث اکٹھا ہونے والے ٹیکس کی مجموعی مالیت کا اندازہ نہیں ہوپاتا۔

اس کے علاوہ صوبائی دائرہ اختیار اور مفادات کا ٹکراؤ بھی سروسز پر جی ایس ٹی کے حصول میں رکاوٹ ہے۔

اس فیصلے کے خلاف آئین ہونے کی بنیاد پر صوبوں کی جانب سے سخت مزاحمت کی جانے کی توقع ہے کیونکہ موجودہ نظام میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی محکمہ ریونیو کے حکام سروسز پر ٹیکس خود اکٹھا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کروں گا

دریں اثنا ایف بی آر کا ہیڈ کوارٹرز بھی آئی آر ایس سے علیحدہ کر کے شمالی اور جنوبی زونز کی طرز پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت آئی آر ایس اور کسٹم کے لیے 2 ڈپٹی چیئرمین 30 نومبر تک تعینات کیے جائیں گے۔

مجوزہ نظام کے تحت ایف بی آر کے چیئرمین آئی آر ایس اور کسٹم کے 2 ڈپٹی چیئرمین کی مدد سے ٹیکس ادارے کی سربراہی کریں گے، اس کے علاوہ ریونیو ڈویژن کے لیے علیحدہ سیکریٹری اور 4 ایڈیشنل سیکریٹریز پالیسی سے منسلک معاملات دیکھیں گے۔