وفاقی حکومت نے قومی ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ قائم کرنے کی منظوری دیدی

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دی — فائل فوٹو/ایف اے ٹی ایف
وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دی — فائل فوٹو/ایف اے ٹی ایف

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر بروقت عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت نے قومی ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ قائم کرنے کی منظوری دے دی۔

کابینہ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سیکریٹریٹ کے قیام سے متعلق سمری کی منظوری دی۔

ذرائع نے بتایا کہ 'اقتصادی امور ڈویژن نے قومی ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ کے قیام کی سمری بھیجی تھی جس کے ذریعے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے مقاصد حاصل ہوں گے'۔

مزید پڑھیں: عبدالحفیظ شیخ خزانہ کمیٹی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، اسد عمر

ان کا کہنا تھا کہ 'ایف اے ٹی ایف نیشنل سیکریٹریٹ مکمل طور پر خود مختاری سے کام کرے گا اور ایف اے ٹی ایف کے متعلق امور دیکھے گا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ تمام صوبوں اور محکموں کے درمیان بھی تعاون کرے گا'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ بنانے کا مقصد بھی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔

اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جولائی میں ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر بروقت اور موثر طریقے سے عملدرآمد کے لیے علیحدہ یونٹ بھی قائم کیا تھا۔

خیال رہے کہ پیرس سے تعلق رکھنے والی ایجنسی نے پاکستان کو اپنی نگرانی کی فہرست یعنی گرے لسٹ میں ڈالا ہوا ہے جبکہ اب تک صرف 2 ممالک ایران اور شمالی کوریا ایسے ہیں، جو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاکستان فروری تک ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عملدرآمد کرلے گا‘

گزشتہ ماہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں تو شامل نہیں کیا تھا لیکن اسلام آباد کو خبردار کردیا تھا کہ اس کے پاس فروری تک کا وقت ہے کہ وہ اپنے اقدامات کو بہتر کرے یا پھر بین الاقوامی کارروائی کا سامنا کرے۔

ٹاسک فورس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان پہلے جنوری کی ڈیڈلائن، پھر مئی اور اب اکتوبر کی ڈیڈلائن تک دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے اس کے ایکشن پلان پر عمل درآمد میں ناکام رہا۔

تاہم گزشتہ ہفتے چین، جو اب ایف اے ٹی ایف کو دیکھ رہا ہے، اس نے کچھ رکن ممالک پر الزام لگایا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف سیاسی ایجنڈے کو استعمال کر رہے ہیں۔

ایشیائی امور کے پالیسی پلاننگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل یاؤ وین نے کہا تھا کہ 'چین، پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اسے بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو روکے گا'۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 'ہم نے امریکا اور بھارت پر واضح کردیا کہ یہ عمل ایف اے ٹی ایف کے مقصد سے تجاوز کرنا ہے'۔