'مجھے نہیں لگتا کہ ایسے لباس میں تم پرواز پر سوار ہوسکتی ہو'

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

سارہ ناتھن — فوٹو بشکریہ سارہ ناتھن ٹوئٹر اکاؤنٹ
سارہ ناتھن — فوٹو بشکریہ سارہ ناتھن ٹوئٹر اکاؤنٹ

ایک خاتون نے آسٹریلین فضائی کمپنی کے عملے پر الزام لگایا کہ اس نے ان کے لباس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہیں اور جاکر بیٹھے۔

برطانوی روزنامے انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 33 سالہ سارہ ناتھن 3 نومبر کو سڈنی سے میلبورن جارہی تھیں اور ایئرپورٹ پر ٹائیگر ائیر نامی فضائی کمپنی کی پرواز کا انتظار کررہی تھی۔

خاتون نے ٹوئٹر پر مختلف پیغامات میں دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کا بوائے فرینڈ ائیرپورٹ لاﺅنج میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک اور فضائی کمپنی جیٹ اسٹار کے عملے کا ایک فرد ان کی جانب آیا۔

خاتون کے بقول وہ بوائے فرینڈ کے گھٹنے پر بیٹھی ہوئی تھی اور باتیں کررہی تھی جب فضائی کمپنی کے عملے کی ایک خاتون نے مداخلت کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا 'کسی الگ نشست پر جاکر بیٹھو کیونکہ یہاں بچے دیکھ رہے ہیں'۔

سارہ ناتھن کا دعویٰ ہے کہ وہاں ارگرد کوئی بچہ نہیں تھا جبکہ وہ اور ان کا بوائے فرینڈ اس ہدایت پر حیران رہ گئے۔

کچھ منٹ بعد جیٹ اسٹار سے تعلق رکھنے والی خاتون ٹیم لیڈر کے ساتھ واپس لوٹی اور پھر کسی اور جگہ بیٹھنے پر زور دیتے ہوئے کہا 'تم اپنی حرکتوں سے والدین کا عدم احترام کررہی ہو ، مجھے تو لگتا ہے کہ اس لباس میں تم پرواز پر سوار بھی نہیں ہوسکتی، جبکہ بورڈنگ گیٹ پر بھی تم ایسے انداز میں نہیں بیٹھے سکتے'۔

سارہ ناتھن سری لنکن نژاد ہے اور ان کے بقول اس درخواست میں نسلی تعصب چھپا ہوا تھا 'میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک خاتون بہت مختصر لباس میں بیٹھی ہوئی تھی جس کو کچھ نہیں کہا گیا'۔

سارہ ناتھن کے مطابق 'میں اس واقعے پر بہت زیادہ حیران، بہت زیادہ شرمندہ، بہت زیادہ ذلت اور بہت زیادہ غصہ محسوس کررہی تھی کہ اس فضول درخواست پر عمل بھی کردیا'۔

جب سارہ کی جانب سے آن لائن جیٹ اسٹار کے کسٹمر کیئر کو شکایت درج کرتے ہوئے اپنے لباس کی تصویر ارسال کی تو ان کو جواب ملا 'میں نے تصویر کو دیکھا ہے اور میرے خیال میں تم بہت خوبصورت ہو، تمہارا بوائے فرینڈ بہت خوش قسمت ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ بوائے فرینڈ کے گھٹنے پر بیٹھنا ٹھیک ہے جبکہ نشستیں دستیاب تھیں، میرا ماننا ہے کہ ہمارا عملہ دیگر مسافروں کا تحفظ کررہیا تھا کیونکہ آپ لوگ ایک عوامی مقام پر تھے'۔

فضائی کمپنی کے ایک ترجمان کے مطابق سڈنی کے عملے نے ان الزامات کی تردید کی ہے، مگر ہم ائیرپورٹ ٹیم سے بات کرکے واقعے کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ہم کسی قسم کا امتیاز برداشت نہیں کرسکتے، ہم سارہ سے اپنے آن لائن کسٹمر سروس نمائندے کے رویے پر معذرت کرتے ہیں جو کہ ہمارے معیار کے مطابق نہیں تھا'۔

اس سے قبل جون میں بھی اسپین سے لندن کا سفر کرنے والی ایک خاتون کو قابل اعتراض لباس پر پرواز سے نکال دیا گیا تھا۔

31 سالہ ہیریٹ اوسبورن اسپین کے شہر مالاگا سے لندن کا سفر کررہی تھیں اور ان کے لباس پر مسافروں کے اعتراضات کے بعد جب فضائی عملے نے لباس بدلنے کو کہا۔

برطانیہ کی سب سے بڑی بجٹ ائیرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خاتون نے ایسا لباس پہن رکھا تھا جس سے جسم ظاہر ہورہا تھا اور مسافروں کے اعتراض کے بعد ہیریٹ کو اضافی قمیض پہننے کے لیے دی گئی۔

ایزی جیٹ کے ترجمان کے مطابق 'ہم تصدیق کرتے ہیں کہ 23 جون کو ایک مسافر اس وقت سے سفر کرنے سے قاصر رہی کیونکہ اس کا رویہ ٹھیک نہیں، اس خاتون کے لباس پر مسافروں کی جانب سے اعتراض کے بعد عملے نے نرمی سے ان سے قمیض بدلنے کی درخواست کی، جس پر وہ راضی بھی ہوگئیں، تاہم خاتون نے اس دوران عملے کے ایک رکن کے ساتھ شر انگیز رویہ اختیار کیا '۔

ترجمان کا کہنا تھا 'ہمارے کیبین اور زمینی عملے کو ہر طرح کی صورتحال کے تجزیے کی تربیت دی گئی ہے اور وہ حالات کے مطابق فوری اور مناسب اقدام کرتے ہیں، ہم اپنے عملے کے ساتھ کسی طرح کا دھمکی آمیز یا بدسلوکی پر مبنی رویہ برداشت نہیں کرتے'۔

دوسری جانب 31 سالہ خاتون نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عملے کا رویہ ایسا تھا جیسے اس کا لباس کم عمر مسافروں کے لیے نامناسب ہے۔