قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

08 نومبر 2019

ای میل

پی ٹی آئی کے رہنما قاسم سوری قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز
پی ٹی آئی کے رہنما قاسم سوری قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعت کے اراکین نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروادی۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن مرتضیٰ جاوید عباسی اور محسن شاہنواز رانجھا کی جانب سے عدم اعتماد کی قرارداد اور نوٹس سیکریٹری قومی اسمبلی کو جمع کروایا گیا۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس آرٹیکل 53 کی شق 7 کے پیرا (سی) کے تحت جمع کروایا گیا۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں عدم اعتماد کی تحریک ناکام، اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار

تحریک عدم اعتماد کے اس نوٹس میں ڈپٹی اسپیکر کے خلاف آئین اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے۔

اس قرارداد میں ‏مختلف مواقع پر ڈپٹی اسپیکر کی طرف سے آئین اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے حوالہ جات دیے گئے ہیں اور کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے قواعد کی خلاف ورزی کی، قاسم سوری اسمبلی کے ارکان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کے نوٹس کے 7 دن بعد قرارداد کو کارروائی کے لیے قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے مطابق گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومت نے آرڈیننس کی منظوری کروائی، اس کے خلاف یہ تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 7 نومبر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت ریکارڈ قانون سازی کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی اور ایوان زیریں میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود 11 بلز منظور کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک عدم اعتماد: مبینہ دھاندلی کی ویڈیو پر بیرسٹر سیف کی وضاحت

خیال رہے کہ اس سے قبل ایوان بالا (سینیٹ) میں اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین صادق سنجرانی اور حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھیں۔

تاہم یہ دونوں تحاریک ناکام ہوئی تھیں اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کی حمایت میں 64 اراکین ایوان میں کھڑے ہوئے، تاہم خفیہ رائے شماری میں صرف 50 ووٹ نکلے تھے۔

ایوان میں مطلوبہ ہدف تک ووٹ حاصل نہ ہونے پر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کردیا گیا جس کے ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ اپنے عہدے پر برقرار رہے تھے۔