پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موبائل فون، سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی

08 نومبر 2019

ای میل

پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی پر بھی پابندی عائد ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی پر بھی پابندی عائد ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی

محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں موبائل کے استعمال پر پابندی لگا دی۔

محکمے کی جانب سے صوبے کے تمام اضلاع کی تعلیمی انتظامیہ کے چیف ایگزیکٹو افسران کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے دور رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے موبائل فون اور سوشل میڈیا تک رسائی کے دیگر ذرائع پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

مراسلے میں افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں اور اپنے ماتحت انتظامیہ سے اس پابندی پر سختی سے عمل کروائیں۔

واضح رہے کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی پر بھی پابندی عائد ہے۔

اکتوبر 2018 میں لاہور ہائی کورٹ نے صوبے کے تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا حکم بھی دیا تھا۔

خیال رہے کہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر نوجوان موبائل فون کے استعمال کے ذریعے منشیات فروشوں سے رابطے میں آتے ہیں جس سے نہ صرف ان نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کے ماحول پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔