نواز شریف کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے، معاون خصوصی

08 نومبر 2019

ای میل

رائے آنے کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا، معاون خصوصی — فوٹو: ڈان نیوز
رائے آنے کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا، معاون خصوصی — فوٹو: ڈان نیوز

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سیاست اپنی جگہ لیکن نواز شریف کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نواز شریف کو عدالت نے طبی بنیادوں پر ضمانت دی ہے اور بیمار نواز شریف پر حکومت کوئی سیاست نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے آج وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست دی ہے، ان کے کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) مدعی ہے اس لیے نیب سے بھی رائے مانگی گئی ہے، میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لینا ہے اس لیے سرکاری میڈیکل بورڈ سے بھی رائے طلب کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رائے آنے کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کا ویژن رکھتے ہیں جبکہ حضور پاکۖ کی سیرت اور تعلیمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘وزارت داخلہ کو میاں شہباز شریف کی جانب سے میاں نواز شریف کا نام طبی اور ملک سے باہر علاج کی بنیاد پر ای سی ایل خارج کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی ہے’۔

بیان کے مطابق ‘وزارت داخلہ نے معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا ہے’۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ‘شریف میڈیکل سٹی لاہور سے موصول ہونے والی میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق رپورٹس کو مشورہ اور جائزے کے لیے اسٹینڈنگ میڈکل بورڈ کو بھیج دیا گیا ہے’۔

مزید پڑھیں: نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا پہنچ گئے

شہباز شریف کی درخواست کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ ‘وزارت داخلہ نے شہباز شریف کی جانب سے درخواست میں اپنائے گئے موقف کے مطابق معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں’۔

وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ‘وزارت داخلہ تمام حقائق کی روشنی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد متعلقہ حکام کو تجاویز دے گی’۔

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 'ڈاکٹروں کی جانب سے پاکستان میں موجود تمام علاج استعمال کرنے اور بیرون ملک جانے کو ہی آخری آپشن بتانے کے بعد نواز شریف آخرکار لندن جانے پر راضی ہوگئے ہیں'۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کے بیرون ملک سفر سے متعلق ڈاکٹروں کی تجاویز سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔

شریف خاندان کے ذرائع کا کہنا تھا کہ 'ڈاکٹروں کی رپورٹس کی روشنی میں حکومت کی جانب سے ایک یا دو روز میں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد وہ ملک سے باہر جاسکیں گے'۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کردیا گیا تو وہ اسی ہفتے لندن کے لیے روانہ ہوسکتے ہیں۔