منشیات کیس: رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت ایک بار پھر مسترد

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2019

ای میل

انسداد منشیات عدالت کے جج شاکر حسن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر محفوظ سنایا۔ — فائل فوٹو/ڈان نیوز
انسداد منشیات عدالت کے جج شاکر حسن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر محفوظ سنایا۔ — فائل فوٹو/ڈان نیوز

لاہور کی انسداد منشیات عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن اسمبلی رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

انسداد منشیات کی عدالت میں جج شاکر حسن نے رانا ثنا اللہ کی ضمانت سے متعلق درخواست پر سماعت کی، اس دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی جانب سے ایڈووکیٹ فرہاد علی شاہ اور زاہد بخاری نے دلائل دیے۔

سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت میں رانا ثنا اللہ کی اہلیہ اور داماد شہریار رانا بھی موجود تھے۔

دوران سماعت رانا ثنا اللہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 'سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیجز نے ہمارا موقف درست قرار دیا ہے، اے این ایف حکام نے موقع پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی'۔

مزید پڑھیں: رانا ثنااللہ نے ضمانت پر رہائی کیلئے انسداد منشیات عدالت سے رجوع کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ 'اے این ایف کے دفتر میں جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 'سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق رانا ثنا اللہ کی گاڑی 3 بجکر 34 منٹ پر لاہور کنال روڑ پر پہنچی، ان کی گاڑی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، درخواست ضمانت سیف سٹی کی فوٹیج آنے کے بعد دوبارہ دائر کی گئی ہے'۔

فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 'پہلے جج کو تو درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران تبدیل کر دیا گیا تھا، اور اس وجہ سے ڈیوٹی جج نے رانا ثنا اللہ کی درخواست مسترد کی تھی'۔

انہوں نے کہا کہ 'اے این ایف نے موقع پر کوئی کارروائی نہیں کی، 3 بج کر 25 منٹ پر گاڑی کو ٹول پلازہ پر روکا گیا جبکہ 10 منٹ میں وہ پنجاب یونیورسٹی کنال تک پہنچ چکی تھی'۔

سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'صرف 6 لوگوں کے نام، پتہ اور ولدیت لکھنے میں کہیں زیادہ وقت لگ جاتا ہے، فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کو پڑھنے میں 10 منٹ لگ گئے ہوں گے تو موقع پر لڑائی جھگڑا و برآمدگی کب ہوئی'۔

انہو نے کہا کہ رانا ثنا اللہ 4 ماہ سے جیل میں ہیں، دل کے مریض کو بطور سزا تو جیل میں نہیں رکھ سکتے، رانا ثنا اللہ ہمیشہ اپنے پاس بلڈ پریشر کا آلہ رکھتے ہیں جو برآمدگی میں شامل ہے'۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ 'یہ کیس مزید تفتیش کا ہے، رانا ثنا اللہ کہیں فرار نہیں ہو سکتے، وہ اپنا پاسپورٹ دینے کو تیار ہیں، بے شک ان کا نام ای سی ایل پر ڈال دیں لیکن ضمانت پر رہا کریں'۔

بعد ازاں اے این ایف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 'رانا ثنا اللہ کے وکیل نے کوئی نئی گراؤنڈ نہیں دی، یہ 10 منٹ میں موقع سے کنال تک پہنچنے کی باتیں کر رہے ہیں، یہ سب تو ٹرائل کی باتیں ہیں جنہیں ضمانت میں نہیں دیکھا جاسکتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان سب باتوں پر پہلے ہی عدالت ضمانت کا فیصلہ کر چکی ہے، یہ تازہ گراؤنڈ ضمانت کے لیے نہیں ہو سکتی'۔

یہ بھی پڑھیں: منشیات کیس: رانا ثنااللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع

وکیل نے کہا کہ 'اس تصویر کے درست ہونے پر ہمیں اعتراض ہے'۔

اس موقع پر رانا ثنا اللہ کے دوسرے وکیل زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ 'سرکاری وکلا کو پتہ نہیں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں، دونوں سرکاری وکلا ایک دوسرے کی نفی کر رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کیا یہ تصویر کسی کارخانے میں بنی ہے، یہ تصاویر عدالت کے کہنے پر سرکاری محکمے نے ہمیں دی ہیں'۔

بعد ازاں عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا، جسے کچھ دیر بعد جج شاکر حسن نے پڑھ کر سنایا اور رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

واضح رہے کہ 6 نومبر کو رانا ثنا اللہ نے ضمانت پر رہائی کے لیے لاہور کی انسداد منشیات عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

اس سے قبل 20 ستمبر کو ڈیوٹی جج نے رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

رانا ثنا اللہ کے ساتھ 5 شریک ملزمان کی ضمانت منظور ہو چکی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

رانا ثنااللہ کی گرفتاری

رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا تھا۔

اے این ایف نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد-لاہور موٹروے سے گرفتار کیا تھا۔

ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے گرفتاری کے حوالے سے بتایا تھا کہ رانا ثنااللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئیں جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس گرفتاری کے پیچھے وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

گرفتاری کے بعد رانا ثنا اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا، جس میں کئی بار توسیع ہو چکی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے اے این ایف کی درخواست پر رانا ثنا اللہ کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا جبکہ گھر کے کھانے کی استدعا بھی مسترد کردی تھی۔