آمدن سے زائد اثاثے: خورشید شاہ عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2019

ای میل

عدالت میں نیب نے خورشید شاہ سے تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی — فائل فوٹو:ڈان نیوز
عدالت میں نیب نے خورشید شاہ سے تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی — فائل فوٹو:ڈان نیوز

سکھر کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما خورشید شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

سندھ کے شہر سکھر کی احتساب عدالت میں نیب نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔

خورشید شاہ کو سکھر کے این آئی سی وی ڈی ہسپتال سے ایمبولینس کے ذریعے عدالت لایا گیا۔

واضح رہے کہ پی پی پی رہنما گزشتہ کئی روز سے دل کی تکلیف کے باعث سکھر کے این آئی سی وی ڈی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ تحقیقات کے حوالے سے تعاون نہیں کر رہے، نیب ان سے مزید تحقیقات کرنا چاہتا ہے اس لیے ان کا مزید 15 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: پی پی رہنما خورشید شاہ مزید 15 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

ان کا کہنا تھا کہ 'نیب کو اب تک جو ریمانڈ ملا ہے اس میں سے آدھا وقت تو ہسپتال میں گزر گیا ہے'۔

تاہم عدالت کے جج امیر علی مہیسر نے نیب کی مزید ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے خورشید شاہ کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہوئے نیب کو 24 نومبر کو انہیں دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

قبل ازیں خورشید شاہ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات سیدہ نفیسہ شاہ، صوبائی وزیر اویس شاہ، خورشید شاہ کے صاحبزادے ایم پی اے سید فرخ شاہ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

بعد ازاں نیب نے عدالتی حکم پر خورشید شاہ کو سینٹرل جیل سکھر پہنچایا جہاں پر انہیں جیل حکام کے حوالے کیا گیا۔

جیل حکام کا کہنا تھا کہ اب جیل کے ڈاکٹرز فیصلہ کریں گے کہ خورشید شاہ کا مزید علاج کہاں کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ 18 ستمبر کو قومی احتساب بیورو نے قومی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا تھا۔

خورشید شاہ کے خلاف انکوائری

خیال رہے کہ 31 جولائی کو نیب نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اگست میں تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔

پی پی پی رہنما پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں فلاحی پلاٹ حاصل کرنے کا الزام ہے جبکہ بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اپنے فرنٹ مین یا ملازمین کے نام پر بے نامی جائیدادیں بھی ہیں۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ کے خلاف انکوائری میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 (اے) اور شیڈول کے تحت بیان کردہ جرائم کے کمیشن میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

اگست میں احتساب کے ادارے نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پر مبینہ کرپشن کے ذریعے 500 ارب روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا تھا لیکن پی پی پی کے رہنما نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

نیب ذرائع نے بتایا تھا کہ خورشید شاہ اور ان کے اہلخانہ کے کراچی، سکھر اور دیگر علاقوں میں 105 بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، اس کے علاوہ پی پی رہنما نے اپنے مبینہ فرنٹ مین ’پہلاج مل‘ کے نام پر سکھر، روہڑی، کراچی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 83 جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

ان دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے پہلاج رائے گلیمر بینگلو، جونیجو فلور مل، مکیش فلور مل اور دیگر اثاثے بھی بنا رکھے ہیں۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا تھا کہ خورشید شاہ نے مبینہ فرنٹ مین لڈو مل کے نام پر 11 اور آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10 جائیدادیں بنائیں۔

مذکورہ ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے اپنے مبینہ ’فرنٹ مین‘ کے لیے امراض قلب کے ہسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی نرسری کے لیے الاٹ کرائی، اس کے علاوہ خورشید شاہ کی بے نامی جائیدادوں میں مبینہ طور پر عمر جان نامی شخص کا بھی مرکزی کردار رہا جس کے نام پر بم پروف گاڑی رجسٹرڈ کروائی گئی جو سابق اپوزیشن لیڈر کے زیر استعمال رہی۔

اس کے علاوہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں خورشید شاہ کا زیر استعمال گھر بھی عمر جان کے نام پر ہے اور سکھر سمیت دیگر علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبے عمر جان کی کمپنی کو فراہم کیے گئے۔

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ادارے نے خورشید شاہ کی رہائشی اسکیموں، پیٹرول پمپز، زمینوں اور دکانوں سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کرلیں ہیں۔

یاد رہے کہ خورشید شاہ بھی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، مریم نواز اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی اس طویل فہرست میں شامل ہوگئے، جو کرپشن کے الزامات پر زیر حراست یا ضمانت پر ہیں۔