نوازشریف کی رہائی سے متعلق بیان پر چوہدری غلام سرور سے جواب طلب

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2019

ای میل

درخواست کے مطابق وفاقی وزیر نے نواز شریف کی رہائی کو حکومت اور سابق وزیراعظم کے درمیان ڈیل سے جوڑا تھا— فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست کے مطابق وفاقی وزیر نے نواز شریف کی رہائی کو حکومت اور سابق وزیراعظم کے درمیان ڈیل سے جوڑا تھا— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی ضمانت کو ڈیل سے جوڑنے کا بیان دینے پر وفاقی وزیر برائے ہوابازی چوہدری غلام سرور خان سے جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی کو 14 نومبر تک جواب جمع کروانے کی ہدایت کی۔

دو روز قبل وکیل خالد محمود خان نے غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست جمع کروائی تھی۔

درخواست میں نجی ٹی وی چینل پر نشر کیے گئے ٹاک شو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وفاقی وزیر غلام سرور نے نواز شریف کی رہائی کو حکومت اور سابق وزیراعظم کے درمیان ڈیل سے جوڑا تھا۔

مزید پڑھیں: فردوس عاشق کی پرانے نوٹس پر غیرمشروط معافی قبول، توہین عدالت کا نیا نوٹس جاری

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے کہا کہ غلام سرور خان نے مبینہ ڈیل سے متعلق بیان دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ جعلی میڈیکل رپورٹ جاری کی جاسکتی ہے۔

جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ 'میڈیکل بورڈ حکومت نے تشکیل دیا پھر وہ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟'

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ سیاست الگ چیز ہے لیکن اس طرح کے بیانات سے لوگوں کا نظام سے اعتماد ختم ہورہا ہے۔

عدالتی بینچ نے غلام سرور خان کے خلاف درخواست کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائیوں کے ساتھ یکجا کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوران سماعت فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میرا چوہدری غلام سرور خان کے کیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ فردوس عاشق اعوان نے سرکاری سطح پر پریس کانفرنس کی اور چوہدری غلام سرور خان نے بھی بیان دیا لہذا کیس اکٹھا سنیں گے۔

اس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ چوہدری غلام سرور خان نے میڈیکل بورڈ سے متعلق کوئی بات نہیں کی جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے نواز شریف کی ضمانت کو 'ڈیل کا نتیجہ' قرار دیا تھا۔

سماعت کے دوران معاون خصوصی نے کہا کہ 'میں چوہدری غلام سرور کے بیان کا ٹرانسکرپٹ پڑھ لیتی ہوں'۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ وفاقی وزیر ایسی بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ جس پر فروس عاشق اعوان نے کہا کہ جس طرح یہاں عدالت میں بیان کیا جارہا ہے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔

اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ 'حکومتی وزرا ایسی بات کیسے کرسکتے ہیں؟' جس پر فردوس عاشق اعوان نے جواب دیا کہ یہ معاملہ وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں لاؤں گی۔

یہ بھی پڑھیں: عدلیہ مخالف پریس کانفرنس پر فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایسی بات حکومت کی پالیسی نہیں یہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی کی ذاتی رائے ہوگی۔

جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'اس کا مطلب ہے کہ حکومت خود اپنے ہی میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد اظہار کررہی ہے، اس کا مطلب ہے آپ حکومت کو گمراہ کررہے ہیں'۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ 'اگر حکومت اپنے اداروں پر اعتماد نہیں کررہی تو اس کے نتائج بھی ہوں گے'۔

اس پر فردوس عاشق اعوان نے دوبارہ کہا کہ چوہدری غلام سرور خان نے میڈیکل بورڈ سے متعلق کچھ نہیں کہا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ 'آپ منتخب وزیر اعظم کی ترجمان ہیں، اگر آپ چوہدری غلام سرور خان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو مطلب ہے آپ کی مرضی سے بیان دیا گیا'۔

انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ 'جب آپ زیر التوا کیسز پر اثر انداز ہوں گے تو دیگر کیسز بھی متاثر ہوں گے'۔

بعد ازاں عدالت نے چوہدری غلام سرور خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔