دنیا ٹی وی نے غلطی تسلیم کرکے ریحام خان سے معافی مانگ لی، وکیل

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2019

ای میل

شیخ رشید نے دنیا ٹی وی کے پروگرام میں ریحام خان پر من گھڑت الزامات عائد کیے تھے—فائل/فوٹو:ڈان
شیخ رشید نے دنیا ٹی وی کے پروگرام میں ریحام خان پر من گھڑت الزامات عائد کیے تھے—فائل/فوٹو:ڈان

وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ اور صحافی ریحام خان کے وکیل نے کہا ہے کہ دنیا ٹی وی نے ان کی موکلہ پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے پیسے لے کر کتاب لکھنے کا الزام واپس لیتے ہوئے عدالت میں معافی مانگ لی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ریحام خان کی جانب سے ایک ویڈیو میں ان کے وکیل نے کہا کہ ‘دنیا ٹی وی میں کامران خان کے پروگرام میں 5 جون 2018 کو پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے میری موکلہ ریحام خان پر انتہائی سنجیدہ الزامات عائد کیے’۔

الزامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘الزامات انتہائی تضحیک آمیز اور مکمل جھوٹے تھے جبکہ ریحام خان کے پاس اپنی معصومیت کو ثابت کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے خوشی ہے کہ دنیا ٹی وی نے لندن کی ہائی کورٹ میں ناقابل تردید معافی مانگ لی ہے اور قانونی چارہ جوئی کا تمام ہرجانہ بھی ادا کیا ہے، ریحام خان اس معافی اور مقدمے کے نتیجے پر بہت خوش ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:ریحام خان کی کتاب کی رونمائی کے خلاف حکم امتناع جاری

وکیل کا کہنا تھا کہ ‘شیخ رشید نے الزام عائد کیا تھا کہ ریحام خان اپنے سابق شوہر کی سیاسی حریف پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ملی ہوئی ہیں اور اپنی سوانح لکھنے کے لیے شہباز شریف سے رقم حاصل کی ہے’۔

شیخ رشید کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘شیخ رشید نے میری موکلہ کو زانیہ سے بھی گندے کردار کی عورت کا الزام دیا اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پریشان کرنے اور ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے الزامات لگائے’۔

ریحام خان کے وکیل نے کہا کہ ‘میری موکلہ پر عائد کیے گئے ان الزامات اور دیگر الزامات میں کوئی صداقت نہیں، جس کے نتیجے میں ریحام خان نے اپنی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے ان کی جانب سے ہیملنز ایل ایل پی کو قانونی چارہ جوئی کی ہدایت کی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آج لندن کی ہائی کورٹ میں دنیا ٹی وی نے مکمل اور ناقابل تردید عام معافی مانگ لی اور دنیا ٹی وی نے تسلیم کیا کہ ریحام خان نے اپنی کتاب کے لیے شہباز شریف یا مسلم لیگ (ن) کے کسی فرد سے کوئی رقم حاصل نہیں کی’۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ‘دنیا ٹی وی نے بیان حلفی دیا ہے کہ میری موکلہ کے خلاف ان الزامات کو نہیں دہرائیں گے اور قانونی چارہ جوئی کے دوران پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ریحام خان کے حوالے سے اس فیصلے پر ہم بہت خوش ہیں’۔

اس موقع پر ریحام خان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ایک لمبی قانونی جنگ لڑنا پڑی، دنیا ٹی وی سمیت دیگر ٹیلی ویژن چینلز نے سیاسی اور کاروباری مقاصد کے حصول کے لیے میری کردار کشی کی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اپنی کتاب لکھنے کے لیے میاں شہباز شریف سے کوئی پیسے نہیں لیے، یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ میڈیا کے ایک مخصوص حلقے اور پاکستان تحریک انصاف سے منسلک سیاست دانوں نے مجھ پر الزامات لگائے، یہ جانتے ہوئے کہ ان الزامات کی کوئی صداقت نہیں ہے’۔

مزید پڑھیں:حمزہ علی عباسی دھمکیاں دے رہے ہیں، ریحام خان کا الزام

ریحام خان نے کہا کہ ‘ان الزامات سے میری جان کو خطرے میں ڈالا گیا، مجھے یقین ہے کہ میری جیت اور ثابت قدمی سے پاکستان میں اخلاقی صحافت اور ایمان دار سیاست کو فروغ ملے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میری جیت پاکستان کی ان تمام خواتین کی جیت ہے جو مردانہ معاشرے کی جانب سے کردار کشی کا شکار ہیں’۔

ریحام خان نے اپنے وکیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں اپنے قانونی معاون کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے قانونی جنگ لڑ کر میرے لیے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا’۔

یاد رہے کہ 2018 میں ریحام خان کی کتاب شائع ہونے سے قبل ہی اس وقت خبروں کی زینت بن گئی تھی جب پاکستان تحریک انصاف کے اس وقت کے عہدیدار اور مشہور اداکار حمزہ علی عباسی نے سوشل میڈیا میں کتاب کے کئی پیراگراف جاری کیے تھے اور الزام عائد کیا تھا وہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کتاب شائع ہونے سے قبل اس کے اثرات زائل کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کتاب پڑھ لی ہے حالانکہ اس وقت کتاب شائع ہی نہیں ہوئی تھی۔

ریحام خان نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دھمکیوں کے باعث عارضی طور پر پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوئی ہیں اور کتاب کی اشاعت کے بعد واپس آئیں گی۔

انہوں نے حمزہ علی عباسی پر الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ دھمکیاں دے رہے ہیں۔