رواں مالی سال: ترسیلات زر میں 2 فیصد تک کمی

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے مقابلے میں 2019 کے 4 ماہ میں 16.8 فیصد کا اضافہ ہوا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے مقابلے میں 2019 کے 4 ماہ میں 16.8 فیصد کا اضافہ ہوا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں کم از کم 2 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020 کے ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران ترسیلات زر کی مد میں 7 ارب 47 کروڑ 80 لاکھ ڈالر موصول ہوئے جو گزشتہ سال میں اسی عرصے کے 7 ارب 61 کروڑ 70 لاکھ لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 1.8 فیصد کم تھی۔

مزیدپڑھیں: ’اقتصادی صورتحال میں تبدیلی‘ پر وزیراعظم اپنی معاشی ٹیم کے معترف

واضح رہے کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں مالی سال2019 کے 4 ماہ میں ترسیلات زر میں 16.8 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب سے ترسیلات زر کا حجم سب سے زیادہ رہا ہے لیکن رواں مالی سال کے 4 ماہ میں یہ 1.1 فیصد کم ہو کر ایک ارب 73 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا جبکہ مالی سال 19-2018 کے اسی عرصے میں یہ ایک ارب 75 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔

علاوہ ازیں رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا سے ترسیلات زر میں 3.8 فیصد اضافہ اور یہ ایک ارب 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر ایک ارب 23 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی،

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2019 کے 4 ماہ میں ترسیلات زر میں سالانہ بنیاد پر 34.8 اضافہ دیکھا گیا۔

دوسری جانب ترسیلات زر کے حوالے سے برطانیہ تیسرے نمبر رہا اور جولائی سے اکتوبر کے دوران ایک ارب 14 کروڑ 30 لاکھ ڈالر موصول ہوئے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 0.94 زائد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاور سیکٹر کے ایک کھرب 67 ارب روپے کے قرضوں کی ری شیڈولنگ منظور

مرکزی بینک کے مطابق متحدہ عرب امارات سے موصول ہونے والی ترسیلات زر میں 6.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے جولائی اور اکتوبر کے درمیان یو اے ای سے ایک ارب 53 کروڑ 80 لاکھ ڈالر موصول ہوئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ترسیلات زر کا حجم ایک ارب 64 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی کہ خلیجی ممالک سے بھی ترسیلات زر موصول ہونے میں 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سے بھی ترسیلات زر میں 2.3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 71 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 72 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھی۔

مرکزی بینک نے بتایا کہ یورپی یونین سے ترسیلات زر میں 3.3 فیصد اضافہ ہو کر یہ 23 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ ملائیشیا سے آنے والی ترسیلات زر میں نمایاں کمی دیکھی کی گئی اور یہ صرف 54 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی۔

مزیدپڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی کا برآمدی صنعتوں کو گھریلو گیس دینے کا فیصلہ

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کے دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 2 ارب 74 کروڑ ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

رواں سال اگست کے مقابلہ میں ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 35 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کم ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 20-2019 کے پہلے 3 ماہ، جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 54 کروڑ 80لاکھ ڈالر رہا تھا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 ارب 28 کروڑ ستر لاکھ ڈالر تھا۔