کراچی: اسکول کے 2 ملازمین پر نرسری کے بچے کے ریپ کا الزام، مقدمہ درج

13 نومبر 2019

ای میل

متاثرہ بچے کی عمر 4 سال بتائی گئی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
متاثرہ بچے کی عمر 4 سال بتائی گئی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

کراچی کے علاقے گلشن معمار میں 4 سالہ بچے کا جنسی استحصال کرنے کے الزام میں پولیس نے نجی اسکول کے 2 ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ بچے کے دادا نے پولیس سے رابطہ کیا اور شکایت کہ ان کے پوتے کو نجی اسکول کے 2 نان ٹیچنگ اسٹاف کی جانب سے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا، جہاں وہ نرسری کلاس میں زیر تعلیم تھا۔

گلشن معمار تھانے کے عہدیدار نے بتایا کہ 'شکایت کنندہ کی جانب سے کہا گیا کہ اسکول کے اوقات کے بعد دونوں مشتبہ افراد بچے کو اپنے کمرے میں لے کر گئے، ان کا جنسی استحصال کیا اور دھمکی دی کہ وہ اپنا منہ بند رکھے'۔

مزید پڑھیں: کراچی: 4 سالہ بچے کا 'ریپ'، ملزم فرار

پولیس کے مطابق 'شکایت درج کرنے کے بعد ہم نے اسکول انتظامیہ سے رابطہ کیا اور لڑکے کو طبی-قانونی کارروائی کے لیے لے کر گئے'، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اسکول انتظامیہ حیران تھی اور اسکول کے دونوں اسٹاف ممبرز کے خلاف ان کے شک و شبہات کو بھی اس وقت تقویت ملی جب پولیس کی جانب سے کیس میں نامزد کیے جانے کے بعد دونوں افراد فرار ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کے ابتدائی طبی معائنے میں جنسی زیادتی کے اشارے ملے، جس کے بعد پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پنجاب کے شہر راولپنڈی میں بچوں سے بدفعلی کرکے ان کی ویڈیو بنانے والے شخص سہیل ایاز کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس گرفتاری پرسٹی پولیس افسر (سی پی او) فیصل رانا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ملزم انٹرنیشنل ڈارک ویب کا سرغنہ ہے اور اس نے پاکستان میں 30 بچوں کا ریپ کرنے کا اعتراف کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: کورنگی میں کم سن بچی اور بچے کا مبینہ ریپ

پولیس افسر نے کہا تھا کہ ملزم سہیل ایاز بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کے جرم میں برطانیہ میں جیل کی سزا بھگت چکا ہے جہاں سے اسے ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔

سی پی او کے مطابق ملزم کے خلاف اٹلی میں بھی بچوں سے بدفعلی کا مقدمہ چلایا گیا تھا جس کے بعد اسے وہاں سے بھی ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔

قبل ازیں خیبرپختونخوا میں ایک نو عمر لڑکے کی خود کشی کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ اسے بھی بدفعلی کا نشانہ بنا کر بلیک میل کیا جارہا تھا جس کے دباؤ میں آکر اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔