زخم پر پٹی 'اسپرے' سے لگانا جلد ہوگا ممکن

13 نومبر 2019

ای میل

ڈیوائس الیکٹرو اسپننگ طریقہ کار پر کام کرتی ہے— فوٹو بشکریہ مونٹانا ٹیکنالوجی یونیورسٹی
ڈیوائس الیکٹرو اسپننگ طریقہ کار پر کام کرتی ہے— فوٹو بشکریہ مونٹانا ٹیکنالوجی یونیورسٹی

کسی بڑے اور پیچیدہ زخم کے بعد خون کو فوری طور پر روکنا اتنا آسان نہیں ہوتا، اور بعض اوقات تو خون نہ رکنے کی وجہ سے متاثرہ شخص زندگی کی بازی بھی ہار جاتا ہے۔

خاص طور پر اگر آپ کسی ایسے علاقے میں ہوں جہاں دور دور تک طبی سہولیات موجود نہ ہو تو زخمی ہونے پر زندگی بچانے والی ادویات تک رسائی لگ بھگ ناممکن ہوتی ہے، تاہم اب سائنسدانوں نے ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جو زخموں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ زندگی بچانے والی ادویات بھی فراہم کرسکے گی۔

یہ اسپرے آن بینڈیجز نامی ڈیوائس الیکٹرو اسپننگ طریقہ کار پر کام کرتی ہے جو اسپرے کی شکل میں فائبر کی ایک پتلی تہہ متاثرہ حصے پر جما دیتی ہے، بالکل ایسے جیسے کسی دیوار پر پینٹ اسپرے کیا جاتا ہے۔

جریدے جرنل آف ویکیوم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ اسپرے ایسی ادویات فراہم کرنے والے فائبر پر مبنی ہوتا ہے جو براہ راست زخم پر کرکے مریض کو بچانے میں مدد دیتا ہے۔

امریکا کی مونٹانا ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے محققین نے اسے تیار کیا اور ان کا کہنا تھا کہ اس اسپرے پینٹ جیسے میکنزم کی بدولت یہ ڈیوائس زخم کو ڈھانپنے اور وقت کے ساتھ دوا کی کنٹرول مقدار کی فراہمی کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔

الیکٹرو اسپننگ طریقہ کار کو پہلے خطرناک سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس میں اتنی زیادہ مقدار میں بجلی استعمال ہوتی ہے جو انسانی جلد کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔

مگر سائنسدانوں نے اس ڈیوائس کے لیے چھوٹے الیکٹرک فیلڈ کو استعمال کیا تاکہ جلد پر محفوظ طریقے سے بینڈیج لگائی جاسکے۔

اس مقصد کے لیے ڈیوائس میں ہوا کو فائبر جلد کی سطح پر اسپرے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اسپرے کے ذریعے پینٹ کرنے پر گیس پر کنٹرول دباﺅ براہ راست ذرات کو سطح پر چھوڑتا ہے، جس سے میٹریل کا اجتماع ہونے لگتا ہے، اسی طرز پر یہ ڈیوائس مطلوبہ سطح پر کام کرتی ہے جس سے سطح پر فائبر اکٹھا ہوجاتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے جانوروں اور دستانے پہنے انسانی ہاتھوں پر اس کی کامیاب آزمائش کی ہے۔

سائنسدانوں کو توقع ہے کہ مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی دیہات میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کے لیے مددگار ثابت ہوسکے گی۔