فاٹا ایکٹ 2019 سماعت: اٹارنی جنرل کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتراض

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھادیا—فائل/فوٹو:ڈان
اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھادیا—فائل/فوٹو:ڈان

اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے فاٹا ایکٹ 2019 اور پاٹا ایکٹ 2018 کے حوالے سے سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھا دیا۔

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تو شروع میں ہی اٹارنی جنرل کیپٹن (ر) انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بینچ پر میرا اعتراض ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بینچ میں موجود ایک جج نے میرے متعلق ذاتی رائے دی اور وفاق، وزیراعظم اور صدر مملکت پر تعصب کا سوال اٹھایا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بات آپ کررہے تھے وہ صرف ایک مقدمے سے متعلق ہے لیکن جج صاحب کی اپروچ ہر مقدمے میں ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔

مزید پڑھیں:حراستی مراکز کو غیرقانونی قرار دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے اٹارنی جنرل کا اعتراض مسترد کردیا اور سماعت کے دوران فاٹا میں موجود حراستی مراکز اور وہاں موجود قیدیوں کی فہرست کل تک فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے، کوئی قیدی کم نہ ہوجائے، اگر تو یہ حراست قانونی ثابت ہوئی تو آپ جانیں اور قیدی لیکن حراست غیر قانونی ہوئی تو معاملے کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ شہریوں کی آئینی آزادی کا معاملہ ہے اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ سول انتظامیہ کی مدد کے لیے آنے والی فوج کن اختیار کے تحت کام کرتی ہے، کیا کسی کو حراست میں رکھنے کا حکم صوبائی انتظامیہ کے علاوہ آرمی کا کوئی افسر بھی دے سکتا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا کہ کسی کو حراست میں رکھنے کی مدت زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے ہے جس کے بعد قیدی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں یہ مدت 3 ماہ ہے اور اس معاملے میں صوبائی حکومت کے اختیارات کے ساتھ عدالتی اختیارات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی مدد کے لیے آنے والی فوج سول انتظامیہ کے اختیارات کو سلب نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ تمام قیدیوں کی فہرست اور ان کے حوالے سے معلومات کی تفصیل فراہم کی جائے اور فوج بلانے کے قوانین کے حوالے سے تیاری کر کے آئیں۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور ہائی کورٹ: خیبرپختونخوا میں حراستی مراکز غیر قانونی قرار

یاد رہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 25 اکتوبر کو خیبرپختونخوا ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاورز) آرڈیننس 2019 کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے معاملے پر لارجر بینج تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے وفاقی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے دائر کی گئیں درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے معاملے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا اور ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسی بھی قیمت پر آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔

گورنر خیبرپختونخوا نے اگست میں ایکشن ان ایڈ سول آف سول پاورز آرڈیننس 2019 نافذ کیا تھا جس کے تحت مسلح فورسز کو کسی بھی فرد کو صوبے میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بغیر وجہ بتائے اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کے اختیارات حاصل ہوگئے تھے۔

17اکتوبر کو چیف جسٹس وقار احمد شاہ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے پاٹا ایکٹ 2018، فاٹا ایکٹ 2019 اور ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاورز) ریگولیشن 2011 کی موجودگی میں ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاورز) آرڈیننس 2019 کو کالعدم قرار دیا تھا۔