بھارتی جاسوس کلبھوشن پر قطعی کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2019

ای میل

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں استصواب راے کے بعد ہی لاین آف کنٹرول ختم ہو گی
—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں استصواب راے کے بعد ہی لاین آف کنٹرول ختم ہو گی —فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ زیر حراست بھارتی جاسوس کمانڈر کلبوشن یادیو پر نئی دہلی کے ساتھ کوئی 'ڈیل' نہیں ہورہی۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے ترجمان پہلے ہی کلبھوشن یادیو کیس پر عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دے چکی ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں جاری بیان میں واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سزا یافتہ بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پاک آرمی ایکٹ میں ترمیم کی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں’۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کلبھوشن کیس پر تمام فیصلے پاکستان کے قوانین کے مطابق ہوں گے تاہم عالمی عدالت برائےانصاف کا فیصلہ پاکستان کے قوانین کی روشنی میں احترام کیا جائے گا ۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جاسوس کلبھوشن کیس کے قانونی پہلووں پر غور جاری ہے، پاک فوج

انہوں نے دوٹوک میں واضح کیا کہ 'کلبھوشن پر قطعی کوئی ڈیل نہیں ہو رہی'۔

'بھارت سےخیر کی توقع نہیں ہے'

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ہمیں بھارت سے قطعی طورپر خیر کی توقع نہیں ہے، نئی دہلی نے 260 جعلی نیوز ویب سائٹس بنا کر پاکستان کو بدنام کررہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایک غیر سرکاری یورپی گروپ نے بھارتی نیٹ ورک کے زیر انتظام 265 نیوز آؤٹ لیٹس موجود ہونے کا انکشاف کیا تھا جس کا مقصد پاکستان کے حوالے سے تنقیدی مواد کے ذریعے یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ پر اثر انداز ہونا تھا۔

تحقیقات کے دوران مذکورہ گروپ کے سامنے منکشف ہوا کہ یہ جعلی ویب سائٹس غیر معمولی پریس ایجنسیوں سے پاکستان کے خلاف مواد، سیاستدانوں اور مشتبہ تھنک ٹینکس کی جانب سے پھیلایا ہوا مواد نقل کر کے چھاپتی ہیں جو بھارتی جیو پولیٹکل مفادات کی حمایت کرتا ہو۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'مقبوضہ کشمیر میں استصواب راے کے بعد ہی لاین آف کنٹرول ختم ہو گی'۔

مزید پڑھیں: بھارتی نیٹ ورک کا جعلی ویب سائٹس سے پاکستان کو نشانہ بنانے کا انکشاف

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 'کشمیری ہمارے ساتھ ملنا چاہتے ہیں تو یہ استصواب رائے کے بعد ہمارا حصہ بن جائے گی اور لائن آف کنٹرول غیر متعلق ہوجائے گی'۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر ایشو کو دنیا بھر میں تسلسل کے ساتھ اٹھا رہے ہیں، ہمارا موقف بالکل ایک ہےاور لائن آف کنٹرول پر ہماری افواج چوکس ہےاور ہر قسم کے دفاع کے لئے تیار ہیں۔

’بابری مسجد کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گے‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ' بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے اقلیتیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور بابری مسجد فیصلے کی مذمت کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت میں بابری مسجد کے فیصلے کے بعد تمام مساجد کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، بابری مسجد کو ساڑھے چار سو برس مسلمان استعمال کرتے رہے تھے۔

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے رواں ماہ 9 نومبر کو 1992 میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کی زمین پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا، بھارتی سپریم کورٹ

علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے قطعاً کچھ نہیں کر رہے اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں'۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حریم شاہ جیسے واقعات مستقبل میں روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک سے مشہور ہونے والی پاکستانی خاتون حریم شاہ دفترخارجہ اور اعلیٰ سطح اجلاس کے لیے مختص کمرے تک پہنچ گئی تھیں، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات بھی شروع کردی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر حریم شاہ کی ایک ٹک ٹاک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں انہیں اس کمرے میں دیکھا گیا تھا، جہاں اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوتے ہیں۔