ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کا سنگین الزامات کے ساتھ آغاز

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2019

ای میل

مواخذے کی کارروائی کی ابتدائی سماعت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے— فوٹو: اے پی
مواخذے کی کارروائی کی ابتدائی سماعت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے— فوٹو: اے پی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تاریخی مواخذے کی کارروائی کی سماعت کے دوران یوکرین میں تعینات امریکی سفیر نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے جو بائیڈن کے خلاف کارروائی کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالا تھا۔

یوکرین میں قائم مقام امریکی سفیر ولیم ٹیلر نے کارروائی کی سماعت کرنے والی ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ امریکی صدر، یوکرین سے زیادہ 2020 کے صدارتی انتخاب میں اپنے ممکنہ حریف کے خلاف تحقیقات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کیخلاف مواخذہ: یوکرین میں امریکی نمائندہ خصوصی مستعفی

ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کے صدر سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کے مابین گفتگو کی ٹرانسکرپٹ منظر عام پرآنے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کرنے کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی قوتوں سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور اپنے ذاتی فوائد کے لیے امریکی خارجہ پالیسی کا غیر قانونی استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

الزامات کے مطابق ریپبلکن صدر ٹرمپ نے یوکرین کی تقریباً 4 کروڑ ڈالر کی امداد روکی اور یوکرین میں توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرینی حکام پر دباؤ ڈالا۔

ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور مواخذے کی کارروائی کو 'وچ ہنٹ' قرار دیا تھا۔

گزشتہ ماہ بند کمرے میں سماعت کے دوران گواہی دینے والے ولیم ٹیلر نے تازہ سماعت کے دوران مزید کہا کہ وہ اس وقت سے ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈ لینڈ کے درمیان ٹیلی فونک کال کے بارے میں جانتے ہیں جب سے اسے ان کے عملے کے ایک رکن نے سنا تھا۔

ٹیلر نے بتایا کہ عملے کے رکن نے ٹرمپ کو سونڈ لینڈ سے تحقیقات کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا تھا اور عملے کے اس رکن نے ٹیلی فونک کال کے بعد سونڈ لینڈ سے پوچھا تھا کہ یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کیا سوچتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی آگے بڑھانے کی قرارداد منظور

انہوں نے کہا کہ اس سوال کے جواب میں سونڈ لینڈ نے جواب دیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے زیادہ بائیڈن کے خلاف کارروائی میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے لیے گیولیانی دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اپنے افتتاحی بیان میں ولیم ٹیلر نے سابقہ بیان کو پھر دہراتے ہوئے کہا کہ وہ بائیڈن کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لیے یوکرین کو فوجی امداد کو ہتھیار بنانے کے مخالف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں مقامی سیاسی تحریک میں مدد کے لیے حفاظتی سہولیات روک لینا سراسر پاگل پن جیسا ہو گا، میرا پہلے بھی یہی ماننا تھا اور اب بھی یہی مانتا ہوں، نیویارک کے سابق میئر اور ٹرمپ کے ذاتی اٹارنی روڈی گیولیانی کا استعمال کرتے ہوئے ایک خلاف ضابطہ طریقے کے ذریعے یوکرین پر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شف نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایسے اقدامات لازم ہیں جیسے کہ صدر کا مواخذہ، اس مواخذے کی کارروائی کے دوران یہ سوالات رکھے گئے ہیں کہ کیا صدر ٹرمپ نے یوکرین کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور انہیں ہمارے الیکشن میں مداخلت کی دعوت دی؟ اگر یہ عمل قابل مواخذہ نہیں تو پھر کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے مواخذے کی انکوائری: وائٹ ہاؤس نے تعاون سے انکار کردیا

اس کے جواب میں مشہور ریپبلیکن ڈیون نونز نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف باقاعدہ تباہ کن جنگ چھیڑنے اور میڈیا ٹرائل کرنے کا الزام عائد کیا۔

یورپ اور یوریشیا کے امریکی نائب سیکریٹری آف اسٹیٹ ٹیلر اور جیورج کینٹ پہلے ہی خفیہ طریقے سے ٹرمپ کے خلاف یہ گواہی دے چکے ہیں کہ امریکی صدر نے بائیڈن کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لیے یوکرین کے صدر ولادمیر زلنسکی پر امریکی فوجی امداد کے ذریعے دباؤ ڈالا۔

کینٹ نے اپنے افتتاحی بیان میں کہا کہ میں یہ نہیں مانتا کہ امریکا کو اپنے مخالفین کے خلاف سیاسی طرز کی تحقیقات اور مقدمات میں دیگر ملکوں سے مدد طلب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک سے قطع نظر اس طرح کے اقدامات قانون کی عملداری کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

اس سماعت کے آغاز سے چند منٹ قبل ایوان کی ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ اس مواخذے کی کارروائی کا مقصد ٹرمپ کو یہ باور کرانا ہے کہ ایسا نہیں کہ وہ جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں، وہ قانون سے بالاتر نہیں اور ان کا بھی احتساب کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مواخذے کی کارروائی کو ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے جہاں کروڑوں امریکی ناظرین نے اس کارروائی کو براہ راست دیکھا البتہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے 2020 کے صدارتی انتخاب پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مواخذے کی تحقیقات: دوسرے مخبر کی ٹرمپ کے خلاف اہم معلومات دینے کی پیشکش

اس سماعت پر ماہرین نے اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے دونوں فریقین کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اس کے نتیجے میں امریکی عوام دو حصوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں اور اس کے صدارتی انتخاب پر مہلک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سماعت کے آغاز سے قبل مختلف اداروں کی جانب سے عوام سے رائے طلب کی گئی تھی جہاں رائے شماری میں امریکی عوام کی اکثریت نے صدر کے مواخذے کی کارروائی کی مخالفت کی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، ان دونوں صدور کو سینیٹ نے مواخذے کے باوجود الزامات ثابت نہ ہونے پر برطرف نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی حمایت میں ’آن لائن اشتہارات‘ چلانے پر امریکی اخبار پر پابندی

تاہم 1974 میں صدر رچرڈ نکسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جہاں واٹرگیٹ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

اگر ٹرمپ پر مواخذے کی کارروائی کے دوران یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو وہ مواخذے کی بنیاد پر برطرف کیے جانے والے پہلے امریکی صدر بن جائیں گے۔